خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 463
خطبات مسرور جلد 16 463 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 ستمبر 2018 کیا ہے ؟ راوی کہتے ہیں ابو جہل نے کہا اے کاش کہ میں ایک کسان کے ہاتھوں سے قتل نہ ہوتا۔(صحیح مسلم کتاب الجهاد والسير باب قتل ابى جهل حديث 4662) مدینہ کے دولڑکے تھے جنہوں نے قتل کیا تھا۔اس کو اس حالت میں پہنچایا تھا۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے بھی تفسیر کبیر میں اس کی تفصیل لکھی ہے کہ کس طرح دشمن حسد کی آگ میں ساری عمر جلتے رہے اور پھر مرتے ہوئے بھی اسی آگ میں جل رہے تھے۔آپ لکھتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ جنگ کے بعد میں نے دیکھا کہ ابو جہل ایک جگہ زخموں کی شدت کی وجہ سے کراہ رہا ہے۔میں اس کے پاس گیا اور میں نے کہا سناؤ کیا حال ہے ؟ اس نے کہا مجھے اپنی موت کا کوئی غم نہیں، سپاہی آخر مرا ہی کرتے ہیں۔مجھے تو یہ غم ہے کہ مدینہ کے دو انصاری لڑکوں کے ہاتھوں سے میں مارا گیا۔مر تو میں رہا ہوں تم صرف اتنا احسان کرو میرے پہ کہ تلوار سے میری گردن کاٹ دو تا کہ میری یہ تکلیف ختم ہو جائے۔مگر دیکھنا میری گردن ذرا لمبی کاٹنا کیونکہ جرنیلوں کی گردن ہمیشہ لمبی کائی جاتی ہے۔حضرت عبد اللہ بن مسعود نے کہا کہ میں تیری اس آخری حسرت کو بھی کبھی پورا نہیں ہونے دوں گا اور ٹھوڑی کے قریب سے تیری گردن کاٹوں گا۔چنانچہ انہوں نے ٹھوڑی کے قریب تلوار رکھ کر اس کا سر تن سے جدا کر دیا۔حضرت مصلح موعود نے لکھا ہے کہ دیکھو یہ کتنی بڑی آگ تھی جو ابو جہل کو جلا کر راکھ کر رہی تھی کہ ساری عمر اس بات پر جلتا رہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جو نقصان ہم پہنچانا چاہتے ہیں وہ پہنچا نہیں سکے۔پھر مر نے لگا، موت کی جو حالت آئی تو اس وقت اس آگ میں جل رہا تھا کہ مدینہ کے دو نا تجربہ کار نو عمر لڑکوں کے ہاتھوں مارا جا رہا ہے۔اور پھر مرتے وقت اس نے جو آخری خواہش کی تھی وہ بھی پوری نہیں ہوئی اور ٹھوڑی کے پاس سے اس کی گردن کاٹی گئی۔غرضیکہ ہر قسم کی آگوں میں جلتا ہو ا ہی وہ دنیا سے چلا گیا۔جب حضرت عبد اللہ بن مسعود ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو حضرت معاذ بن جبل کے ہاں آپ کا قیام تھا۔بعض کے مطابق آپ حضرت سعد بن خیثمہ کے ہاں ٹھہرے تھے۔مکہ میں آپ کی مؤاخات حضرت زبیر بن العوام سے ہوئی تھی جبکہ مدینہ میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل کو آپ کا دینی بھائی بنایا۔مدینہ کے ابتدائی ایام میں آپ کے مالی حالات اچھے نہیں تھے چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مہاجرین کے لئے مسجد نبوی کے قریب رہائش کا کچھ انتظام کیا تو بنو زہرہ کے بعض لوگوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود کو اپنے ساتھ رکھنے میں کچھ ہچکچاہٹ ظاہر کی کہ یہ مزدور آدمی ہے، غریب آدمی ہے، ہم لوگ بڑے آدمی ہیں۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جب علم ہوا تو آپ نے اپنے اس غریب اور کمزور خادم کے لئے غیرت دکھاتے ہوئے فرمایا کہ کیا خدا نے مجھے اس لئے مبعوث فرمایا ہے کہ تم لوگ یہ فرق رکھو۔یاد رکھو خدا تعالیٰ اس قوم کو کبھی برکت عطا نہیں کرتا جس میں کمزور کو اس کا حق نہیں دیا جاتا اور پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبد اللہ بن مسعود کو مسجد کے قریب جگہ دی جبکہ بنو زہرہ کو مسجد کے پیچھے ایک کونے میں جگہ دی۔(ماخوذ از تفسیر کبیر جلد 6 صفحه 461) (الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 112-113 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء)،(سیرت صحابہ رسول الله صلى اله ام از حافظ مظفر احمد صفحه 275 شائع کردہ نظارت اشاعت ربوہ 2009ء)