خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 462
خطبات مسرور جلد 16 462 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 ستمبر 2018 عبد اللہ بن مسعو د رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رازدار، آپ کا بستر بچھانے والے، آپ کی مسواک اور نعلین وغیرہ رکھنے والے تھے۔یہ جو عربی کے لفظ بولے گئے ہیں وہ یہ تھے کہ آپ کا بستر بچھانے والے تھے، مسواک کرواتے تھے، وضو کرواتے تھے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نہانے کا انتظام کرتے تھے ، آپ کا بستر بچھاتے تھے۔بستر بچھانے والے کو صاحب السواد کہتے ہیں۔اور آپ کی نعلین مبارک، جو تیاں رکھنے اور ٹھیک کرنے کا کام بھی کرتے تھے اس لئے صاحب النعلین بھی آپ کو کہا جاتا ہے۔وضو کا پانی رکھنے والے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی سفر میں ہوتے تو آپ ہی یہ کام کرتے۔ابو ملیح سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل فرماتے تو حضرت عبد اللہ بن مسعود پر دہ کرتے تھے اور جب آپ سوتے تو آپ کو بیدار کرتے تھے۔آپ کے ہمراہ سفر میں مسلح ہو کر جاتے تھے۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 113 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) حضرت ابو موسیٰ روایت کرتے ہیں کہ جب ہم یمن سے نئے نئے پہلی دفعہ آئے تو یہی سمجھتے تھے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سے ہیں کیونکہ ان کی اور ان کی والدہ کی آمد ورفت آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں بہت زیادہ تھی۔(اسد الغابه جلد 3 صفحه 384 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت) گھر میں آنا جانا بہت زیادہ تھا۔جتنا کام کرتے تھے اور والدہ بھی آتی جاتی تھیں تو اس سے یہ کہتے ہیں کہ ہم جب نئے نئے مدینہ میں آئے تو ہم سمجھے کہ یہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سے ہیں۔حضرت عبد اللہ بن مسعود دونوں ہجرتوں میں شامل تھے ہجرت حبشہ میں بھی اور ہجرت مدینہ میں بھی۔غزوہ بدر، احد، خندق اور بیعت رضوان وغیرہ میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل تھے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جنگ یرموک میں بھی شامل ہوئے۔آپ ان صحابہ میں بھی شامل تھے جنہیں حضور نے ان کی زندگی میں ہی جنت کی بشارت دی تھی۔(اسد الغابه جلد 3 صفحه 383 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت) غزوہ بدر میں ابو جہل کو انجام تک پہنچانے میں حضرت عبد اللہ بن مسعود کا بھی حصہ ہے۔حضرت انس سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے اختتام پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا کوئی ہے جو ابو جہل کے بارے میں درست خبر لائے۔عبد اللہ بن مسعود گئے اور دیکھا کہ ابو جہل جنگ کے میدان میں شدید زخمی ہے اور جان کنی کی حالت میں پڑا ہے۔اسے عفراء کے بیٹوں نے اس حالت میں پہنچایا تھا۔حضرت ابن مسعود نے اس کی داڑھی سے پکڑ کر کہا کہ کیا تم ہی ابو جہل ہو ؟ اس نے اس حالت میں بھی بڑے غرور سے جواب دیا۔کیا کبھی مجھ سے بڑا سر دار بھی تم نے مارا ہے۔(صحيح البخاری کتاب المغازی باب قتل ابى جهل حديث 3962) پہلی روایت تو بخاری کی تھی اس کے بارے میں صحیح مسلم کی روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود نے اس کی داڑھی کو پکڑ کر کہا کہ کیا تو ابو جہل ہے ؟ اس پر ابو جہل نے کہا کیا تم نے آج سے پہلے میرے جیسا بڑا آدمی قتل