خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 461
خطبات مسرور جلد 16 461 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 ستمبر 2018 دوسرے لوگ بھی پڑھتے تھے۔چنانچہ حضرت عمر کا یہ سوال کہ مجھے آپ نے اس طرح پڑھایا ہے بتاتا ہے کہ حضرت عمر بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پڑھتے تھے۔(ماخوذ از دیباچه تفسیر القرآن، انوار العلوم جلد 20 صفحہ 427-428) ایک روایت میں ہے کہ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے پہلے قرآن کو علی الاعلان پڑھنے والے حضرت عبد اللہ بن مسعود ہی تھے۔چنانچہ یہ واقعہ اس طرح ملتا ہے کہ ایک دن صحابہ جمع تھے اور آپس میں کہہ رہے تھے کہ قریش نے قرآن کی بلند آواز تلاوت کبھی نہیں سنی۔کیا کوئی شخص ان کو سنا سکتا ہے ؟ حضرت عبد اللہ بن مسعود نے کہا کہ میں سنا سکتا ہوں۔لوگوں نے کہا کہ ہمیں ڈر ہے کہ کہیں کفار تمہیں تکلیف نہ پہنچائیں۔تم تو مز دور آدمی ہو تمہارے بجائے کوئی اور با اثر شخص ہو کہ کفار اگر اسے مارنا بھی چاہیں گے تو اس کا قبیلہ اسے بچا لے گا۔حضرت عبد اللہ بن مسعود کہنے لگے کہ اس کی فکر نہ کرو مجھے اللہ بچائے گا۔عجیب جوش تھا ان صحابہ میں۔دوسرے دن چاشت کے وقت صبح کو آپ نے مقام ابراہیم پہنچ کر بلند آواز سے قرآن کریم کی تلاوت شروع کر دی۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ الرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ پڑھنا شروع کر دیا۔قریش جو کہ اپنی مجالس میں بیٹھے تھے آپ کے اس عمل سے حیران ہوئے۔بعض نے کہا یہ تو انہی عبارتوں میں سے پڑھ رہا ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم بیان کرتے ہیں۔یہ سن کر سب اٹھ کھڑے ہوئے اور آپ کے منہ پر مار ناشروع کر دیا مگر آپ پڑھتے رہے اور جتنا پڑھنے کا ارادہ کیا تھا پڑھا۔بعد میں جب حضرت عبد اللہ بن مسعود اصحاب کے پاس واپس گئے تو آپ کے منہ پر طمانچوں کے نشان دیکھ کر صحابہ کہنے لگے کہ ہمیں اسی بات کا خطرہ تھا کہ تمہیں مار پڑے گی۔اس پر حضرت عبد اللہ بن مسعود نے کہا کہ یہ خدا کے دشمن میری نظر میں اتنے بے حقیقت کبھی نہ تھے جتنے اس وقت تھے جب وہ مجھے مار رہے تھے۔اگر تم چاہو تو میں کل بھی ایسا ہی کرنے کو تیار ہوں۔صحابہ نے کہا نہیں اتنا ہی کافی ہے تم نے انہیں وہ چیز سنادی ہے جسے وہ سنتا ہی نہیں چاہتے تھے۔(اسد الغابہ جلد 3 صفحه 383مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت) حضرت عبد اللہ بن مسعود کے اسلام قبول کرنے کے بعد آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے پاس رکھ لیا۔آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتے تھے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے فرما دیا تھا کہ جب تم میری آواز سن لیا کرو اور گھر میں پردہ نہ پڑا ہو تو بلا اجازت اندر آجایا کرو۔گھر میں اگر پر دہ گرا ہوا ہے تو پھر بغیر پوچھے نہیں آنا اور اگر پردہ اٹھا ہوا ہے، دروازہ کھلا ہے میری آواز سن لی ہے تم نے تو آجایا کرو تمہیں اجازت ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ وہاں کوئی اس وقت، کوئی خواتین وغیرہ نہیں ہیں۔آپ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر کام کرتے تھے۔آپ کو جوتی پہناتے۔کہیں ساتھ جانے کی ضرورت ہوتی تو ساتھ جاتے۔جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم غسل فرماتے تو آپ پر دو لے کر کھڑے رہتے۔صحابہ میں آپ صاحب السواک کے لقب سے مشہور تھے۔(اسد الغابه جلد 3 صفحه 383 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت) ایک اور روایت کے مطابق آپ کو صاحب السواک، صاحب الوساد اور صاحب النعلین بھی کہا جاتا ہے۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 113 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء)