خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 460
خطبات مسرور جلد 16 460 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 ستمبر 2018 ہیں کہ میں ان سب میں سے کتاب اللہ کا خوب عالم ہوں۔قرآن مجید میں کوئی سورۃ یا آیت نہیں مگر میں جانتا ہوں کہ وہ کب اتری اور کہاں اتری۔ابو وائل راوی کہتے ہیں کہ اس بیان کا کسی نے انکار نہیں کیا۔اصحاب بدر از قاضی محمد سلیمان صفحه 107 مکتبہ اسلامیہ لاہور 2015ء) جب حضرت عبد اللہ بن مسعود نے یہ بات کہی۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جن چار صحابہ سے قرآن کریم پڑھنے اور سیکھنے کی نصیحت فرمائی ان میں حضرت عبد اللہ بن مسعود کا نام سر فہرست ہے۔دیباچه (صحيح البخارى كتاب المناقب باب مناقب عبد الله بن مسعود حدیث 3760) یہ تفسیر القرآن میں اس کی تفصیل حضرت مصلح موعودؓ نے اس طرح بیان فرمائی ہے کہ چونکہ لوگوں میں حفظ قرآن کریم کا اشتیاق بہت تیز ہو گیا تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم پڑھانے والے استادوں کی ایک جماعت مقرر فرمائی جو سارا قرآن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حفظ کر کے آگے لوگوں کو پڑھاتے تھے۔یہ چار چوٹی کے استاد تھے جن کا کام یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن شریف پڑھیں اور لوگوں کو قرآن پڑھائیں۔پھر ان کے ماتحت اور بہت سے صحابہ ایسے تھے جو لوگوں کو قرآن شریف پڑھاتے تھے۔ان چار بڑے استادوں کے نام یہ ہیں : عبد اللہ بن مسعود، سالم مولیٰ ابی حذیفہ ، معاذ بن جبل اور ابی بن کعب۔ان میں سے پہلے دو مہاجر ہیں اور دوسرے دو انصاری۔کاموں کے لحاظ سے عبد اللہ بن مسعود ایک مزدور تھے ، سالم ایک آزاد شدہ غلام تھے ، معاذ بن جبل اور ابی بن کعب مدینہ کے رؤسا میں سے تھے۔گویا ہر گروہ میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام گروہوں کو مد نظر رکھتے ہوئے قاری مقرر کر دیئے تھے۔حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ خُذُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ وَسَالِمٍ وَ مَعَاذِ ابْنِ جَبَلٍ وَ أُبَى مِن كَعْبٍ۔جن لوگوں نے قرآن پڑھنا ہو وہ ان چار سے قرآن پڑھیں۔عبد اللہ بن مسعود، سالم، معاذ بن جبل اور اُبی بن کعب۔حضرت مصلح موعودؓ بعد میں لکھتے ہیں کہ یہ چار تو وہ تھے جنہوں نے سارا قرآن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھایا آپ کو سنا کر اس کی تصحیح کرالی لیکن اس کے علاوہ بھی بہت سے صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست بھی کچھ نہ کچھ قرآن سیکھتے رہتے تھے۔چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک دفعہ عبد اللہ بن مسعود نے ایک لفظ کو اور طرح پڑھا تو حضرت عمر نے ان کو روکا اور کہا کہ اس طرح نہیں اس طرح پڑھنا چاہئے۔اس پر عبد اللہ بن مسعود نے کہا کہ نہیں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح سکھایا ہے۔حضرت عمر اُن کو پکڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے کہا کہ یہ قرآن غلط پڑھتے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔عبد اللہ بن مسعود پڑھ کر سناؤ۔جب انہوں نے پڑھ کر سنایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو ٹھیک ہے۔حضرت عمر نے کہا یا رسول اللہ ! مجھے تو آپ نے یہ لفظ اور رنگ میں سکھایا تھا۔آپ نے فرمایا یہ بھی ٹھیک ہے جس طرح تم پڑھ رہے ہو۔تو حضرت مصلح موعودؓ نے نتیجہ نکالا کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف یہی چار صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن نہیں پڑھتے تھے بلکہ