خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 459
خطبات مسرور جلد 16 459 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 ستمبر 2018 نام مسعود بن غافل تھا۔حضرت عبد اللہ بن مسعود کا شمار ابتدائی اسلام لانے والوں میں سے ہوتا ہے۔حضرت عمر کی ہمشیرہ حضرت فاطمہ بنت خطاب اور ان کے شوہر حضرت سعید بن زید نے جب اسلام قبول کیا تو آپ بھی اسی وقت مسلمان ہوئے تھے۔(اسد الغابه جلد 3 صفحه 381-382، 387 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت) اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دارار تم میں داخل ہونے سے قبل ہی ایمان لے آئے تھے۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 112 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) وہ جگہ جو مکہ میں مسلمانوں کے اکٹھے ہونے کے لئے بنائی گئی تھی۔حضرت عبد اللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ میں اسلام قبول کرنے والا چھٹا شخص تھا۔اس وقت روئے زمین پر ہم چھ اشخاص کے علاوہ کوئی مسلمان نہیں تھا۔اپنے اسلام قبول کرنے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے حضرت عبد اللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ میں سن تمیز کو جب پہنچ گیا، ایسی عمر کو جب پہنچ گیا جب صحیح پہچان بھی ہوتی ہے، اچھے برے کا فرق پتہ لگ جاتا ہے ، بلوغت کی عمر ہوتی ہے۔ایک دن عقبہ بن ابی معیط کی بکریاں چرا رہا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور حضرت ابو بکر بھی آپ کے ساتھ تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ اے لڑکے تیرے پاس کچھ دودھ ہے ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ہے مگر میں امین ہوں دے نہیں سکتا۔بچپن سے ہی ان میں بڑی نیکی تھی۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی بکری لے آؤ جو گا بھن نہ ہو، ایسی بکری جو گا بھن نہیں ہے، دودھ نہیں دے رہی اسے لے آؤ۔کہتے ہیں میں ایک جوان بکری آپ کے پاس لے گیا تور سول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پاؤں باندھ دیئے ، اس کے تھن پر ہاتھ پھیر ناشروع کیا اور دعا کی یہاں تک کہ اس کا دودھ اتر آیا۔پھر حضرت ابو بکر ایک برتن لے آئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بر تن میں اس کا دودھ دھویا اور حضرت ابو بکر سے فرمایا کہ پیو۔حضرت ابو بکر نے دودھ پیا۔بعد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا اور پھر آپ نے تھنوں پہ اپنا ہاتھ پھیرا اور کہا کہ سکڑ جاؤ اور وہ سکڑ گئے اور پہلے جیسے ہو گئے۔میں نے عرض کی کہ یارسول اللہ مجھے بھی اس کلام میں سے کچھ سکھا دیں جو آپ نے پڑھا ہے۔اس پر آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا تم سیکھے سکھائے نوجوان ہو۔آپ بیان کرتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بلا واسطہ قرآن کریم کی ستر سورتیں یاد کی ہیں، بر اور است آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے یاد کی تھیں۔(اسد الغابه جلد 3 صفحه 382 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت) ان کے بارے میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب بھی سيرة خاتم النبیین میں لکھتے ہیں کہ "عبد اللہ بن مسعود جو غیر قریشی تھے اور قبیلہ ہذیل سے تعلق رکھتے تھے ایک بہت غریب آدمی تھے اور عقبہ بن ابی معیط رئیس قریش کی بکریاں چرایا کرتے تھے۔اسلام لانے کے بعد یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آگئے اور آپ کی صحبت سے بالا آخر نہایت عالم و فاضل بن گئے۔فقہ حنفی کی بنیاد زیادہ تر انہی کے اقوال و اجتہادات پر مبنی ہے۔" (سیرت خاتم النبیین از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے صفحہ 124) ان کے دینی علم کی فضیلت کے بارے میں یہ روایت ہے : حضرت ابن مسعود کہتے ہیں کہ لوگ جانتے