خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 458 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 458

خطبات مسرور جلد 16 458 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 ستمبر 2018 دی پھر کہ یقیناً اللہ تعالیٰ نے مجھے اونٹنی کے متعلق بتایا ہے کہ وہ فلاں فلاں گھاٹی میں ہے اور ایک گھائی کی طرف اشارہ کیا۔اس کی مہار ایک درخت سے اٹک گئی ہے پس جاؤ اور اسے میرے پاس لے آؤ۔پس صحابہ گئے اور اسے لے آئے۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس منافق کا منہ بند کرنے کے لئے یہ بھی آپ کو نظارہ دکھا دیا کہ اونٹنی کہاں ہے اور کس جگہ کھڑی ہے۔بیقی اور ابونعیم بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمارہ اپنے ہو رج کی طرف گئے اور کہا اللہ کی قسم آج ایک عجیب بات ہوئی ہے۔ابھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک شخص کی بات کے متعلق بتایا جس سے اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ فرمایا تھا۔یہ واضح ہو گیا کہ جو منافق کی بات تھی اس کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ نے ہی آپ کو آگاہ فرمایا تھا اور وہ زید بن صلت کی بات تھی۔حضرت عمارہ کے ہودج میں سے ایک شخص نے بتایا کہ اللہ کی قسم زید نے آپ کے آنے سے پہلے وہ بات کی ہے جو آپ نے ابھی بتائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا۔تو زید نے آپ کے آنے سے پہلے بالکل یہی بات تھی۔اس پر حضرت عمارہ نے زید کو گردن سے دبوچ لیا اور اپنے ساتھیوں کو کہنے لگے کہ اے اللہ کے بندو! میرے ہو دج میں ایک سانپ تھا اور میں اس کو اپنے ہو رج سے باہر نکالنے سے بے خبر تھا اور زید کو مخاطب کر کے کہا کہ آئندہ میرا تم سے کوئی تعلق نہیں۔بعض لوگوں کا خیال ہے کہ زید نے بعد میں توبہ کر لی اور بعض کا خیال ہے کہ اسی طرح شرارتوں میں ملوث رہا حتی کہ مر گیا۔(تاريخ الخميس جلد 3 صفحه 18 غزوة تبوك مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2009ء) حضرت زیاد بن نعیم حضرت عمارہ بن حزم سے روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چار باتیں ایسی ہیں کہ جس نے ان پر عمل کیا وہ مسلمانوں میں سے ہو گیا اور جس نے ان میں سے ایک بھی چھوڑی تو باقی تین اسے کچھ فائدہ نہیں دیں گی۔حضرت زیاد بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عمارہ سے پوچھا کہ وہ چار باتیں کون سی ہیں تو انہوں نے بتایا کہ وہ نماز ہے ، زکوۃ ہے ، روزہ ہے اور حج ہے۔(اسد الغابه جلد 4 صفحه 129 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت) ان چاروں باتوں پر ایمان لانا اور عمل کرنا ضروری ہے۔نماز بھی فرض ہے۔زکوۃ بھی جن پر فرض ہے ان پر ضروری ہے۔روزہ بھی صحت کی حالت میں رکھنا ضروری ہے۔اور حج بھی جن پر فرض ہے ضروری ہے ، جو ادا کر سکتے ہیں یہ فریضہ ان کو ادا کرناضروری ہے۔بہر حال ان چاروں باتوں پر ایمان لانا بھی ضروری ہے اور ان پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔اب یہ باتیں اسد الغابہ میں لکھی ہوئی ہیں۔یہی کتابیں ہیں ، مسلمان خود ہی اپنے مسلمان ہونے کی تعریف بیان کرتے ہیں اور خود ہی ایسے بھی علماء پید اہو گئے ہیں جو کفر کے فتوے لگاتے ہیں اور انہوں نے مسلمان ہونے کی اپنی اپنی تعریف بنائی ہوئی ہے۔دوسرے صحابی جن کا ذکر ہو گا آج وہ حضرت عبد اللہ بن مسعود ہیں۔ان کی کنیت ابو عبد الرحمن ہے۔ان کا تعلق بنو ھذیل قبیلہ سے تھا اور ان کی والدہ کا نام ام عبد ہے۔ان کی وفات 32 ہجری میں ہوئی۔ان کے والد کا