خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 457 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 457

خطبات مسرور جلد 16 457 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 ستمبر 2018 کر لیا کرتے تھے۔ایک دن منافقین میں سے کچھ لوگ مسجد نبوی میں جمع ہوئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آپس میں سر گوشیاں کرتے دیکھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق حکم دیا کہ ان کو مسجد سے نکال دو۔پس وہ مسجد سے نکال دیئے گئے۔حضرت ابو ایوب، عمر بن قیس کی طرف گئے جو بنو غنم بن مالک بن نجار میں سے تھا اور وہ جاہلیت کے زمانے میں ان کے بتوں کا نگران بھی تھا۔انہوں نے اسے ٹانگ سے پکڑا اور ہوئے مسجد سے باہر نکال دیا۔وہ کہتا جار ہا تھا کہ اے ابو ایوب ! کیا تو مجھے بنو ثعلبہ کی مجلس سے نکالے گا؟ پھر آپ رافع بن ودیعہ کی طرف گئے اور وہ بھی بنو نجار میں سے تھا۔اسے بھی اپنی چادر میں لپیٹا اور زور سے کھینچا اور ایک تھپڑ مار کے اس کو مسجد سے باہر نکال دیا۔ابو ایوب کہہ رہے تھے کہ اے خبیث منافق تجھ پر لعنت ہو ! رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد سے دور چلا جا۔حضرت عمارہ بن حزم، زید بن عمرو کی طرف گئے اور اس کی داڑھی سے اسے پکڑا اور گھسیٹتے ہوئے باہر لے گئے اور مسجد سے باہر نکال دیا۔پھر حضرت عمارہ نے اپنے دونوں ہاتھ اس کے سینے پر اتنے زور سے مارے کہ وہ گر گیا۔اس نے کہا اے عمارہ! تو نے مجھے زخمی کر دیا ہے۔اس پر حضرت عمارہ نے کہا کہ اے منافق ! اللہ تجھے ہلاک کرے۔جو عذاب اللہ تعالیٰ نے تیرے لئے تیار کیا ہے وہ اس سے زیادہ شدید ہے۔پس آئندہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد کے قریب نہ آنا۔سیرت ابن هشام صفحه 246 باب من اسلم احبار یهود نفاقا مطبوعه دار ابن حزم 2009ء) من غزوہ تبوک کے موقع پر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تبوک کی طرف تشریف لے جارہے تھے راستے میں ایک جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی قصوئی گم ہو گئی۔صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اسے ڈھونڈھنے کے لئے نکلے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت عمارہ بن حزم بھی تھے جو کہ بیعت عقبہ میں شامل ہوئے تھے اور بدری صحابی تھے جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے، اور حضرت عمرو بن حزم کے بھائی تھے۔بیان کرنے والے پھر بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمارہ کے ہو دج میں زید بن صلت تھا، یعنی وہ ان لوگوں میں شامل تھا جو ان کی سواریوں وغیرہ پر مقرر تھا، جو اونٹ کی سواری تھی اس پہ ہو دج رکھنے والا تھا۔وہ قبیلہ بنو قینقاع سے تعلق رکھتا تھا اور یہودی تھا۔اونٹ کی سواری کے لئے بیٹھنے کی جو سیٹ ہوتی ہے اس کو رکھنے والے بعض لوگ مقرر تھے۔یہودی تھا پھر مسلمان ہوا اور اس نے نفاق ظاہر کیا۔زید جو مسلمان ہوا تھا لیکن دل میں منافقت تھی بڑا معصوم بن کے پوچھنے لگا کہ کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ وہ نبی ہیں اور وہ تمہیں آسمان کی خبروں سے آگاہ کرتے ہیں جبکہ وہ خود نہیں جانتے کہ ان کی اونٹنی کہاں گئی ہے۔اس وقت حضرت عمارہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے۔یہ بات آپ تک بھی کسی طرح پہنچی یا اللہ تعالیٰ نے خبر دے دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یقینا ایک شخص نے کہا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم لوگوں کو تو بتاتا ہے کہ وہ نبی ہے اور گمان کرتا ہے کہ وہ تم لوگوں کو آسمان کی خبروں سے آگاہ کرتا ہے جبکہ وہ خود نہیں جانتا کہ اس کی اونٹنی کہاں ہے۔اس پہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خدا کی قسم میں نہیں جانتا ما سوائے اس کے جس کا اللہ تعالیٰ نے مجھے علم دیا ہے۔غیب کا علم تو میں نہیں جانتا، ہاں اللہ تعالیٰ بتاتا ہے تو میں بتاتا ہوں۔اور پھر آپ نے اس منافق کا منہ بند کرنے کے لئے فرمایا، اللہ تعالیٰ نے خبر بھی دے