خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 456
خطبات مسرور جلد 16 456 39 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 ستمبر 2018 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 28 ستمبر 2018ء بمطابق 28 تبوک 1397 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یو کے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: گزشتہ دورے سے پہلے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ جو جنگ بدر میں شریک ہوئے ان کے حالات و واقعات بیان کر رہا تھا۔آج پھر یہی مضمون دوبارہ شروع ہو گا۔آج جن صحابہ کا ذکر ہے ان میں سے ایک ہیں حضرت عمارہ بن حریم۔حضرت عمارہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اُن ستر صحابہ میں شامل ہیں جو بیعت عقبہ ثانیہ میں شامل ہوئے تھے۔ان کے بھائی حضرت عمر و بن حرام اور حضرت مُعمر بن حرام بھی صحابی تھے۔غزوہ بدر ، غزوہ احد سمیت دیگر تمام غزوات میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل ہوئے۔فتح مکہ کے دن بنو مالک بن نجار کا جھنڈا ان کے ہاتھ میں تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمارہ کی مواخات حضرت محرز بن نضلہ سے کروائی، ہجرت کے بعد ان کا بھائی بنایا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جو مرتدین کا فتنہ اٹھا اور انہوں نے جنگ شروع کی مسلمانوں کے ساتھ ان کے خلاف لڑائی میں بھی حضرت خالد بن ولید کے ساتھ یہ شامل ہوئے اور جنگ یمامہ میں ان کی شہادت ہوئی۔( اصحاب بدر از قاضی محمد سلیمان صفحه 182 مکتبہ اسلامیہ لاہور 2015ء) ان کی والدہ کا نام خالدہ بنت انس تھا۔(سیر الصحابہ جلد 3 صفحہ 455 مطبوعہ دار الاشاعت کراچی 2004ء) ابو بکر بن محمد بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن سہل کو سانپ نے کاٹ لیا تور سول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں حضرت عمارہ بن حزم کے پاس لے جاؤ تا کہ وہ دم کریں۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ تو مرنے کے قریب ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم عمارہ کے پاس لے جاؤ وہ دم کر دیں گے تو اللہ تعالیٰ شفادے گا۔(سبل الهدى والرشاد جلد 10 صفحه 771 باب الرابع فيما علمه الا الله لاصحابه من لدغة العقرب مطبوعه 1995ء قاهره) یقینا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی آپ کو یہ دم سکھایا تھا اور دعا سکھائی ہو گی۔اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نعوذ باللہ حضرت عمارہ کے دم کے محتاج تھے یا آپ نہیں کر سکتے تھے۔لوگوں کو خاص طور پر بعض کاموں کے لئے مقرر کیا ہوا تھا اور اس کے پیچھے بہر حال قوت قدسی اور برکات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی تھیں۔سیرت ابن ہشام میں لکھا ہے کہ مسجد نبوی میں منافقین آیا کرتے تھے اور مسلمانوں کی باتیں سن کر بعد میں ان کا تمسخر اڑاتے تھے ، ان کے دین کا استہزاء کیا کرتے تھے۔بعض دفعہ سامنے بھی ایسی باتیں