خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 455 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 455

خطبات مسرور جلد 16 455 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 ستمبر 2018 واقف تھے۔تو یہ لوگ لٹریچر پڑھنے کے بعد ان کے پاس لے گئے۔انہوں نے کہا کہ ہاں ہم نے تو مان لیا ہے تم لوگ قبول کر لو۔چنانچہ چوہدری محمد خان صاحب سیکھواں سے سیدھے قادیان چلے گئے۔قادیان پہنچ کر آپ نے بیعت کی درخواست کی جو منظور ہوئی اور اس طرح پھر بیعت کر کے آپ جماعت احمدیہ میں داخل ہو گئے۔بیعت کے بعد کہتے ہیں کہ ایک روز چوہدری محمد خان صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاؤں دبارہے تھے تو انہوں نے جھجکتے ہوئے عرض کیا کہ حضور مجھے کوئی وظیفہ بتائیں جس سے میری دین و دنیا سنور جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ہمارا وظیفہ یہی ہے کہ نماز سنوار کر ادا کیا کرو۔استغفار کثرت سے پڑھا کرو۔بعد میں پھر ایک مرتبہ اسی طرح پاؤں دباتے ہوئے آپ نے دوبارہ عرض کیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ استغفار اور درود شریف کثرت سے پڑھا کرو۔چنانچہ آپ عمر بھر اس پر عمل پیرا رہے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے بھی یہ روایت لکھی ہوئی ہے۔(ماخوذ از سیرت المہدی جلد 1 حصہ دوم صفحہ 436-437، جلد اول حصہ سوم صفحہ 530-531) یہ پہلی باتیں تو ان کے دادا کی بتائی تھیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حوالے سے تھیں۔مکرم چوہدری خالد سیف اللہ صاحب کے بارے میں یہ ہے کہ اپنی ملازمت کے سلسلہ میں جہاں بھی رہے جماعتی خدمات بجالاتے رہے جن میں یہ صدر ممبر سٹینڈنگ کمیٹی برائے صد سالہ جو بلی بھی رہے ہیں۔خدام الاحمدیہ کی مرکزی شوریٰ کی دستور کمیٹی کے صدر بھی رہے۔جنرل سیکرٹری جماعت احمدیہ فیصل آباد بھی رہے۔فنانشل سیکرٹری مرکزی احمد یہ انجنیئرنگ ایسوسی ایشن بھی رہے۔صدر حلقہ سول لائن لاہور اور تربیلا بھی رہے۔بن غازی لیبیا کے امیر جماعت بھی رہے۔انصار اللہ آسٹریلیا کے صدر بھی رہے۔نائب امیر جماعت احمد یہ آسٹریلیا بھی رہے اور محمود بنگالی صاحب کی وفات کے بعد کچھ عرصہ کے لئے ان کو قائمقام امیر جماعت آسٹریلیا بھی میں نے مقرر کیا تھا۔اس کی بھی انہوں نے بڑے احسن رنگ میں خدمت کی توفیق پائی۔خلافت سے ان کا غیر معمولی وفا اور اطاعت کا تعلق تھا۔بیشمار اور بھی ان کی خدمات ہیں بہر حال بھر پور زندگی انہوں نے گزاری۔بڑے علمی آدمی تھے۔جماعت کے جرائد اور رسائل میں ان کے مضامین بھی چھپتے رہے ہیں۔لیکن انتہائی سادہ مزاج تھے۔ہر وقت مسکراتے رہنے والے صلح جو انسان تھے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔مغفرت کا سلوک فرمائے۔مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں تین بیٹیاں اور دو بیٹے یادگار چھوڑے ہیں۔اور آپ کے بڑے بیٹے محمد عمر خالد صاحب تو یہیں یو کے میں ہی ہیں ،مارڈن کے صدر حلقہ ہیں۔چھوٹے بیٹے احمد عمر خالد آسٹریلیا میں نیشنل سیکرٹری وقف جدید کے طور پر خدمت بجالا رہے ہیں۔باقی ان کی بیٹیاں بھی ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی سب اولاد کو ان کی نیکیوں کو جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 05 اکتوبر 2018ء تا 11 اکتوبر 2018ء جلد 25 شماره 40 صفحہ 0905)