خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 454
خطبات مسرور جلد 16 454 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 ستمبر 2018 مغفرت کا سلوک اور رحم کا سلوک فرمائے۔دوسر اجنازہ مبار کہ شوکت صاحبہ کا ہے جو حافظ قدرت اللہ صاحب سابق مبلغ ہالینڈ اور انڈونیشیا کی اہلیہ تھیں۔18 ستمبر کو 94 سال کی عمر میں وفات پاگئیں۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ۔محترم بابو عبد اللطیف صاحب کی بیٹی تھیں۔ان کی شادی 1940ء میں حافظ قدرت اللہ صاحب کے ساتھ ہوئی جو واقف زندگی اور سلسلہ کے ابتدائی مبلغین میں سے تھے۔ان کا یہ ساتھ 53 سال جاری رہا۔تقریباً 20 سال کا عرصہ وہ ہے جبکہ حافظ صاحب کے میدان جہاد میں ہونے کی وجہ سے، تبلیغ کے میدان میں ہونے کی وجہ سے، ملک سے باہر ہونے کی وجہ سے اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کا فریضہ اکیلے ہی ادا کیا۔پرانے مبلغین کی بیویوں نے بھی بڑی قربانیاں دی ہوئی ہیں۔پندرہ ہیں سال تک اپنے خاوندوں سے علیحدہ رہی ہیں۔بہت نیک اور بزرگ دعا گو عبادت گزار خاتون تھیں۔بچوں کو قرآن کریم پڑھانے والی، ضرورت مند کی ہر ممکن مدد کرنے والی مخلص خاتون تھیں۔تہجد کا اہتمام کرنے والی، خدمت دین کے کاموں میں بھر پور شرکت کرنے والی، خلافت سے مضبوط اور اعلیٰ تعلق تھا۔قتلان (Catalan) زبان میں جماعت کی طرف سے شائع ہونے والے ترجمہ قرآن کا سارا خرچ اپنی طرف ہے ، حافظ صاحب اور فیملی کی طرف سے پیش کرنے کی توفیق پائی۔انڈو نیشیا میں ایک مسجد کی تعمیر کا سارا خرچ بھی فیملی کی طرف سے ادا کرنے کی سعادت پائی۔ان کے پسماندگان میں ایک بیٹا عزیز اللہ صاحب ہیں۔تین بیٹیاں ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سب کو ان کی نیکیوں کو جاری رکھنے کی توفیق دے۔ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔یہ عطاء المجیب راشد صاحب کی ممانی تھیں۔اور تیسر اجنازہ چوہدری خالد سیف اللہ صاحب نائب امیر جماعت آسٹریلیا کا ہے جو 16 ستمبر کو 87 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔اِنَّا لِلهِ وَ اِنَّا اِلَيْهِ رجِعُونَ۔آپ کے خاندان میں احمدیت آپ کے دادا چوہدری محمد خان صاحب نمبر دار موضع گل منبج ضلع گورداسپور کے ذریعہ آئی جنہوں نے 1890ء میں نوجوانی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کا شرف حاصل کیا۔چوہدری محمد خان صاحب کو یہ اعزاز بھی حاصل تھا کہ آپ کو احمدیت کا پیغام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خود ذاتی طور پر دیا تھا۔یہ قادیان گئے۔وہاں نماز عصر کا وقت جارہا تھا تو انہوں نے کہا کہ نماز پڑھ لیتے ہیں۔مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھنے کے لئے گئے تو وہاں نماز ختم ہو چکی تھی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام باہر آرہے تھے۔سلام کیا۔یہ لوگ نماز پڑھنے لگ گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام وہیں بیٹھ گئے اور جب انہوں نے نماز پڑھ لی تو ان کو پوچھا کہ آپ لوگوں کو میرا پیغام پہنچا ہے۔انہوں نے کہا نہیں۔کوئی اعلان وغیرہ نہیں پہنچا۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان کو اپنے ساتھ کمرے میں لے گئے۔کہتے ہیں وہاں الماری میں لٹریچر پڑا ہوا تھا۔انہوں نے کہا تمہارے گاؤں میں جتنے پڑھے لکھے لوگ ہیں ان کے لئے لے جاؤ۔تو یہ کہتے ہیں کہ پڑھے لکھے لوگ تو تین چار تھے میں نے چودہ پندرہ کی تعداد میں وہ لٹریچر اٹھالیا۔جو آپ کے دعوے کا بھی اعلان تھا میں لے گیا۔اس کے بعد اس کو پڑھا۔اس سے بڑا متاثر ہوا۔اور پھر سیکھواں گاؤں جو تھا وہاں کے حضرت میاں جمال دین صاحب اور حضرت میاں خیر دین صاحب رہا کرتے تھے وہ ان کے