خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 452 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 452

خطبات مسرور جلد 16 452 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 ستمبر 2018 خاموش ہو کر صرف اور صرف خلیفہ کی باتیں سننے کے لئے تیار بیٹھے ہوتے ہیں۔یہ میں نے نہ کسی دنیاوی اور نہ کسی دینی لیڈر کے ماننے والوں میں دیکھا ہے۔جلسہ کے موقع پر تیسرے روز جو بیعت ہوئی تھی اس میں وہاں جو نئے بیعت کرنے والے 42 افراد تھے۔انہوں نے بیعت کی اور ان کا تعلق سترہ مختلف قوموں سے تھا۔البانیہ سے آنے والے ایک دوست برک صاحب کہتے ہیں میں احمدیت کا شدید مخالف تھا۔میر ابھائی اور میرا دوست احمدیت میں داخل ہو چکے تھے۔میں ہر ممکن کوشش کرتا تھا کہ میرے بھائی کو احمدیت سے نفرت ہو جائے۔بالآخر ہمارے درمیان یہ طے ہوا کہ دونوں دعا کرتے ہیں جو سچا ہو گا وہ جیت جائے گا۔تو کہتے ہیں مسلسل دعا کے بعد میراجی چاہنے لگا کہ پہلے اپنی آنکھوں سے جا کر جلسہ سالانہ اور خلیفہ وقت کو دیکھوں تا کہ جو بھی فیصلہ کروں وہ نا مکمل علم کی بنیاد پر نہ ہو۔چنانچہ گزشتہ سال میں جلسہ میں شامل ہوا تو مجھے کچھ اطمینان ہوا مگر پھر بھی کچھ بے چینی تھی۔چنانچہ فیصلہ کن وقت آگیا اور مجھے خلیفہ وقت کا چہرہ دکھائی دیا اور جب میری نظر پڑی تو اسی وقت میری ساری دشمنی بغض نفرت اور سارے شکوک دل سے نکل گئے۔اب میرے پاس انکار کی گنجائش نہ تھی۔چنانچہ جلسہ سے واپس آکر میں نے بیعت فارم پر کر دیا۔اب اس دفعہ میں آیا ہوں اور بیعت کرنے کی توفیق پائی ہے۔اور پھر یہ بیان کرتے ہیں کہ اس دوران مجھے ایک اور مشکل یہ پیش آئی کہ میری منگیتر احمدی نہیں ہونا چاہتی تھی۔چنانچہ کوشش کر کے اسے اپنے ساتھ یہاں لے کر آیا ہوں۔میری منگیتر نے جب خلیفہ وقت کا لجنہ میں خطاب سنا تو اسی وقت اس نے احمدی ہونے کا فیصلہ کر لیا۔میری منگیتر نے کہا جس جماعت کے پاس اس قدر شفیق اور محبت کرنے والا خلیفہ ہو اسے ایک وجود سے ساری برکتیں مل گئی ہیں جو باقی مسلمانوں کے پاس نہیں ہیں۔اب ہم جلدی ہی بطور احمد کی شادی کریں گے۔جلسہ سالانہ جرمنی کی میڈیا کوریج کی رپورٹ یہ ہے۔انٹر نیشنل میڈیا میں رائٹرز ورلڈ، یورپین نیوز ایجنسی، میسی ڈونیاٹی وی کے تین جرنلسٹ، لتھوینیا، اسرائیل اور بعض آن لائن اخبارات کے نمائندگان شامل ہوئے۔نیشنل لیول پر جرمنی کے چار ٹی وی سٹیشن اور دو پرنٹ میڈیا اور ایک ریڈیو کے نمائندے موجود تھے۔اس کے علاوہ نیشنل نیوز ایجنسی کے نمائندے بھی شامل تھے۔لوکل لیول پر دوٹی وی چینل، دو ریڈیو سٹیشن، دو پرنٹ میڈیا اور ایک اخبار کے نمائندے شامل تھے۔مجموعی طور پر جرمنی میں جلسہ سالانہ کے تینوں دنوں کی کوریج ہوئی ہے۔رپورٹ کے مطابق چار ٹی وی چینلز، دو ریڈیو چینل اور چھیالیس اخبارات اور دیگر میڈیا کے ذریعہ چھ کروڑ اٹھائیس لاکھ ستاون ہزار افراد تک پیغام پہنچا ہے۔اس کے علاوہ بھی مزید آرٹیکلز آرہے ہیں۔میڈیا کوریج جلسہ سالانہ بیلجیم۔یہاں بھی بعض تاثرات تھے جو صحیح طرح ابھی اکٹھے نہیں کئے جاسکے۔بعد میں ماجد صاحب کی رپورٹ میں آجائیں گے۔لیکن بہر حال جو میڈیا کوریج ہے بیلجین ٹی وی چینل اور تین اخبارات میں خبریں شائع ہوئیں جن کے ذریعہ دو ملین افراد تک پیغام پہنچا۔بیلجین ٹی وی اور اخباروں میں جلسہ کے حوالے سے خبریں نشر ہوئیں تو دِ لبیک جہاں جلسہ ہو رہا تھا۔چھوٹا تو نہیں ایک در میانہ قصبہ ہے چھیالیس ہزار آبادی