خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 451
خطبات مسرور جلد 16 451 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 ستمبر 2018 اس نے مجھے یہ بہت اثر کیا۔پھر کہتے ہیں کہ انہوں نے کہا صرف عبادت ہی نہ کی جائے بلکہ خدا کو خوش کرنا مقصود ہونا چاہئے۔اس بات نے میرا دل جیت لیا ہے۔میں واپس جا کر جماعت کے بارے میں اخباروں میں کالم بھی لکھوں گا اور اپنے میگزین کا ایک پورا شمارہ صرف اس جماعت کے بارے میں شائع کروں گا۔مجھے اس بات کا اندازہ ہے کہ ایسا کرنے سے مجھے مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن میں حق کا ساتھ دینا چاہتا ہوں۔میر ا دل یہاں آکر نہایت خوش اور مطمئن ہوا ہے اور میں آپ سب کے لئے اور جماعت کے لئے بہت نیک تمناؤں کا اظہار کرتا ہوں۔تاجکستان سے ایک غیر از جماعت صاحب تھے رحیم صاحب۔یہ سیاستدان بھی ہیں۔یہ کہتے ہیں مجھے جلسہ میں پہلی دفعہ شامل ہونے کا موقع ملا اور جماعت احمدیہ کو نزدیک سے دیکھنے کا موقع ملا۔تمام کارکنان کا جذبہ میرے لئے مثال ہے کہ کس طرح دن رات کام ہو رہا ہے۔جماعت احمدیہ کے خلیفہ سے ملاقات میں مجھے میرے ذہن میں ابھرنے والے بہت سے سوالات کا جواب مل گیا ہے اور ان کے پاس بیٹھ کے لگتا ہے کہ آج وحدت اس جماعت کے پاس ہے۔مسلمانوں کے آج کے دور میں حالات کے متعلق میرے سوال کا بہت جامع جواب دیا اور میں قائل ہو گیا۔میں سمجھتا ہوں کہ جماعت احمدیہ مستقبل میں تمام امت مسلمہ کو جمع کر سکتی ہے۔مجھے یہ جماعت بہت سنجیدہ لگتی ہے۔میں اس جلسہ اور خلیفہ کے ساتھ خوشگوار ملاقات کو ہمیشہ یاد رکھوں گا۔تاجکستان کی ایک یونیورسٹی کی لیکچر رہیں وہ کہتی ہیں کہ مجھے جماعت احمدیہ کا جلسہ اور انتظام دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔مہمان نوازی اور تعاون کی مثال میں نے زندگی میں پہلی دفعہ دیکھی ہے۔جماعت احمدیہ کو یہاں بہت آزادی ہے اور خلیفہ وقت کالجنہ سے خطاب آج کے مسائل کا حقیقی حل ہے۔کاش ساری دنیا اس پر عمل کر سکے۔مجھے امام جماعت سے ملاقات کا بھی موقع ملا۔ان کو صحافت اور عصر حاضر کے مسائل پر کافی معلومات ہیں۔میں ملاقات سے قبل یہی سمجھتی تھی کہ آپ صرف ایک دینی شخصیت ہیں لیکن جب میں نے باتیں کیں کافی معلومات ملیں اور انہوں نے یہ بالکل درست کہا ہے کہ دنیا میں میڈیا فساد کو پھیلانے میں شامل ہے۔اگر میڈیا چاہے تو امن میں اپنا کر دار ادا کر سکتا ہے۔میری نیک خواہشات جماعت احمد یہ اور امام جماعت احمدیہ کے ساتھ ہیں۔سینیگال کے ایک بڑے شہر امبور کے میٹر بھی آئے تھے جو کہ سینیگال کے بڑے فرقہ مرید کے خلیفہ کے نمائندے کی حیثیت سے جلسہ میں شامل ہوئے تھے وہاں انہوں نے سٹیج پہ مجھے ایک تحفہ بھی دیا تھا۔یہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے خلیفہ کی بھی بیعت کی ہے لیکن یہاں پر بیعت کا جو نظارہ دیکھا ہے وہ میں نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھا۔وہ جب یہ بات بیان کر رہے تھے تو بڑے جذباتی ہو گئے۔ان کی آنکھوں سے آنسو آنے لگے۔کہنے لگے کہ ہمارا بھی ایک خلیفہ ہے مگر خلافت سے اتنی محبت میں نے کبھی نہیں دیکھی۔ایسا نظارہ نہ کبھی پہلے دیکھا ہے اور نہ کبھی ایسے خلافت کی محبت دیکھی ہے۔آج مجھے اندازہ ہو گیا ہے کہ کس طرح صحابہ جان فدا کرتے تھے۔جو میں نے لوگوں کے دلوں کا جذبہ دیکھا ہے جو محبت دیکھی ہے مجھے یوں لگا کہ ایک ہی اشارہ اگر خلیفہ کریں تو کوئی ایسا بندہ نہیں ہو گا جو کام سے پیچھے ہٹے۔اتنی محبت اور اطاعت میں نے دیکھی ہے۔پھر کہتے ہیں کہ ہمارا بھی تین دن کا جلسہ نا ہے۔جب ہمارا خلیفہ آتا ہے تو کوئی بندہ خاموشی سے نہیں بیٹھا ہوتا مگر یہاں جب خلیفہ آتا ہے تو سارے