خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 38
خطبات مسرور جلد 16 38 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 جنوری 2018 احمدیہ کے اس معلم کی دعا کو قبول فرمایا اور اپنے فضل سے دو تین گھنٹے کے اندر موسلا دھار بارش برسا دی اور اپنے سمیع الدعا ہونے کا ثبوت دیا۔اس واقعہ کا اللہ تعالیٰ کے فضل سے پورے گاؤں میں اچھا اثر ہوا اور گاؤں والوں نے بر ملا کہا کہ احمدیوں کی دعا کی وجہ سے بارش ہوئی۔پھر اسی طرح جزائر فجی کے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ طوالو نجی کے قریب ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے۔اس کے دورے پر جانے سے قبل طوالو کے مبلغ نے بتایا کہ یہاں ایک عرصے سے بارش نہیں ہوئی اور پانی کا انحصار بارش پر ہی ہوتا ہے۔چنانچہ دورہ پر جانے سے پہلے انہوں نے مجھے بھی دعا کے لئے خط لکھا کہ بارش کے لئے دعا کریں۔کہتے ہیں جب ہم شام کو طوالو پہنچے تو وہاں کے لوگوں نے بہت زیادہ پریشانی کا ذکر کیا کہ اب پانی بالکل خشک ہو رہا ہے۔یہ کہتے ہیں کہ میں نے اسی دن رات کو نماز عشاء پر اعلان کیا کہ ہم نماز کا جو آخری سجدہ پڑھیں گے اس میں بارش کے لئے بھی دعا کریں گے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرمائی اور رات کو اللہ تعالیٰ کی رحمت کی بارش ہوئی اور اس کے بعد تین چار دفعہ بارش ہوئی جبکہ محکمہ موسمیات کے مطابق ایک لمبے عرصے کے لئے خشک موسم کی پیشگوئی تھی۔کہتے ہیں کہ اس کے بعد ہم جہاں بھی گئے لوگوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ آپ کے آنے پر یہاں بارش ہوئی ہے۔چنانچہ کیتھولک چرچ کے بشپ اور فونا فوتی قبیلے کے ایک بڑے چیف نے بھی اس بات کا اظہار کیا کہ یہ محض خدا تعالیٰ کا فضل ہے اور جماعت اور آپ کے خلیفہ وقت کی دعائیں ہیں جو اس طرح غیر معمولی طور پر یہاں بارش ہوئی اور یہ بارش نہ صرف احمدیوں کے لئے ازدیاد ایمان کا باعث بنی بلکہ غیر از جماعت کے لئے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا ایک نشان بنی۔بعض جگہ بارش کا ہو نا خدا تعالیٰ کی تائید اور قبولیت کا نشان بن جاتا ہے تو بعض جگہ بارش کار کنا دعا کی قبولیت کا نشان بن جاتا ہے۔اور غیر ، چاہے اسلام کو قبول کریں یا نہ کریں لیکن اس بات کاضر ور اعتراف کرتے ہیں کہ اسلام کا خدا دعاؤں کو سننے والا خدا ہے۔گنی بساؤ افریقہ کا ایک ملک ہے۔وہاں کے معلم عبد اللہ صاحب ہیں۔کہتے ہیں ہم ایک گاؤں سین چانگ کا مسا (Sinchang Kamsa) میں تبلیغ کے لئے گئے اور لوگوں کو جمع کر کے انہیں جماعت احمدیہ کا پیغام پہنچایا۔جب انہیں تبلیغ کی جارہی تھی تو اسی دوران سخت بارش شروع ہو گئی اور بارش کے شور کی وجہ سے یہ کہتے ہیں کہ میری آواز حاضرین تک نہیں پہنچ رہی تھی اور یوں لگ رہا تھا کہ ابھی لوگ اٹھ کے چلے جائیں گے۔لوگ پریشان ہو رہے تھے اور جانے والے تھے۔تو کہتے ہیں اس وقت میں نے دعا کی کہ اے اللہ! بارش بھی تیری ہے اور جو پیغام میں لے کر آیا ہوں وہ بھی تیرا ہے لیکن بارش کی وجہ سے یہ لوگ تیرا یہ پیغام سن نہیں رہے۔اور اٹھنے والے ہیں۔کہتے ہیں ابھی دعا کرنے کی دیر ہی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے بارش کو تھما دیا اور پھر وہاں موجود تقریباً ایک سو پچاس لوگوں کو تبلیغ کی گئی اور کہتے ہیں الحمد للہ تبلیغ کے بعد تمام افراد نے بیعت کرنے کی توفیق حاصل کی۔دعا کے بعد بارش کے رکنے نے جہاں ہمارے معلم کے ایمان کو مضبوط کیا وہاں ان لوگوں کو بھی دعاؤں