خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 37
خطبات مسرور جلد 16 37 4 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 جنوری 2018 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 26/ جنوری 2018ء بمطابق 26/ صلح 1397 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: دعاؤں کی برکات اور فلاسفی : حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک موقع پر دعا کی فلاسفی بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ: ایک بچہ جب بھوک سے بیتاب ہو کر دودھ کے لئے چلاتا اور چیختا ہے تو ماں کے پستان میں دودھ جوش مار کر آجاتا ہے۔بچہ دعا کا نام بھی نہیں جانتا لیکن اُس کی چھینیں دودھ کو کیونکر کھینچ لاتی ہیں ؟" فرمایا کہ بعض اوقات دیکھا گیا ہے کہ مائیں دودھ کو محسوس بھی نہیں کرتیں مگر بچہ کی چلا ہٹ ہے کہ دودھ کو کھینچے لاتی ہے۔" آپ فرماتے ہیں تو کیا ہماری چینیں جب اللہ تعالیٰ کے حضور ہوں تو وہ کچھ بھی نہیں کھینچ کر لا سکتیں ؟ آتا ہے اور سب کچھ آتا ہے۔مگر آنکھوں کے اندھے جو فاضل اور فلاسفر بنے بیٹھے ہیں وہ دیکھ نہیں سکتے۔" آپ نے فرمایا کہ " بچہ کو جو مناسبت ماں سے ہے اس تعلق اور رشتہ کو انسان اپنے ذہن میں رکھ کر اگر دعا کی فلاسفی پر غور کرے تو وہ بہت آسان اور سہل معلوم ہوتی ہے۔" اللہ تعالیٰ کا ہم احمدیوں پر بڑا فضل ہے کہ ہمارے اکثر چھوٹے بڑے اس بات کو سمجھتے ہیں کہ اگر بیتاب ہو کر، گڑ گڑا کر عاجزی سے اللہ تعالیٰ کے حضور جھکا جائے اور اس سے دعامانگی جائے تو اللہ تعالیٰ دعاؤں کو سنتا ہے۔اور بعض دفعہ دعا کی قبولیت کے ایسے واقعات ہوتے ہیں جو غیروں کو بھی حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔بہت سے لوگ مجھے لکھتے ہیں کہ بعض دفعہ ایسی ناامیدی کی کیفیت ہو جاتی ہے اور کس طرح ہر طرف سے ناامید ہو جاتے ہیں اس وقت جب ہم اللہ تعالیٰ کے آگے جھکے تو اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا جو ہمارے ایمانوں میں مضبوطی کا باعث بنا۔میں اس وقت بعض ایسے واقعات پیش کروں گا جو مختلف رپورٹس میں آتے ہیں۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 129) ناظر دعوت الی اللہ قادیان لکھتے ہیں کہ ضلع ہوشیار پور کے امیر نے بتایا کہ چند سال قبل ان کے گاؤں کھیڑ ا اچھر وال میں بارش نہ ہونے کی وجہ سے گاؤں والے بہت پریشان تھے حتی کہ کنوئیں کا پانی بھی نچلی حد تک پہنچ گیا تھا۔یہاں کی ہندو اکثریت نے وہاں کے معلم کو دعا کرنے کو کہا۔مشرقی پنجاب میں معلم کو ، مولوی کو میاں جی کہتے ہیں۔انہیں یقین تھا کہ احمدی معلم کو دعا کے لئے کہیں گے تو ضر ور بارش ہو گی۔بہر حال ہمارے معلم نے پہلے تو ان کو اسلامی دعا کے آداب بتائے اور اللہ تعالیٰ کی صفات بتائیں۔پھر دعا کروائی۔وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جماعت