خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 450
خطبات مسرور جلد 16 450 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 ستمبر 2018 تقریب میں شامل ہو کر لگتا ہے انسان اندر سے دھل گیا اور بڑا ہلکا پھلکا ہو گیا۔جیسے شروع میں بچے کو نہانے سے خوف آتا ہے مگر وہ اس کے لئے نہایت ضروری ہوتا ہے ایسا ہی حال انسان کا جلسہ دیکھ کر ہوتا ہے۔تو یہ میں نے کہا ناں کہ جلسہ غیر وں پر بھی بڑا اثر ڈال رہا ہوتا ہے۔ہنگری کے وفد میں یمن سے تعلق رکھنے والی ایک میڈیکل ڈاکٹر و فاصاحبہ ہیں۔جلسہ میں شامل ہوئیں تو یہ بڑی پر جوش تھیں۔دوسرے دن لجنہ سے جو خطاب تھا انہوں نے خواتین کی مار کی میں سنا۔اس کے بعد مہمانوں سے جو میر اخطاب تھا وہ مردانہ ہال میں آکر سنا تو کہنے لگی کہ میں لجنہ مار کی میں ہی خوش تھی مجھے واپس لجنہ کی طرف چھوڑنے کا انتظام کر دیں۔جامعہ کے وزٹ کے دوران بڑے شوق سے لائبریری دیکھی، بنیادی اسلامی کتب دیکھیں۔باہر آکر کہنے لگی کہ ہر آیت بر موقع اور بر محل ہے اور ساتھ ہی جامعہ کی عمارت پر تحریر آیت کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ یہ دیکھیں کیسے بالکل صحیح جگہ پر لکھی ہوئی ہے۔وہ آیت ہے۔واشر قَتِ الْأَرْضُ بِنُورِ رَيْهَا - (الزمر: 70) پھر مقدونیہ کا وفد ہے۔جرمنی کے جلسہ میں مقدونیہ کے تراسی (83) افراد نے شرکت کی اور پچاس افراد ایک بس کے ذریعہ دو ہزار کلو میٹر کا سفر چونیتس گھنٹوں میں طے کر کے آئے جبکہ دیگر افراد دوسرے ذرائع استعمال کر کے شامل ہوئے۔ان شامل ہونے والوں میں اکیس (21) احمدی تھے۔انیتس (29) غیر احمدی مسلمان تھے۔چودہ (14) عیسائی تھے۔ان مہمانوں میں ایک بڑے شہر کے میئر بھی تھے۔چار ٹی وی چینل کے چھ صحافی بھی شامل ہوئے۔جلسہ کے تینوں دن جلسہ کے مناظر کی ریکارڈنگ کی۔مختلف مہمانوں کے انٹر ویو لئے اور انہوں نے کہا ہے اپنے اپنے ٹیلی ویژن کے لئے وہ ڈاکیومنٹری تیار کریں گے۔جلسہ میں تین مسلمان پر وفیسر بھی شامل ہوئے جو آپس میں دوست ہیں۔ان میں سے ایک پروفیسر جو آئی ٹی کے پروفیسر ہیں جن کا نام جلادینی (Djeladini) صاحب ہے کہتے ہیں میں جلسہ سالانہ کی انتظامیہ اور مقدونیہ میں احمدی افراد کا ممنون ہوں جن کی دعوت پر میں جلسہ میں شامل ہوا۔اس جگہ پر صحیح اسلامی تعلیمات کا ظہور ہو رہا تھا۔اگر چہ اس سے قبل میں نے جماعت احمد یہ اور ان کے خلفاء کے بارے میں پڑھ اور سن رکھا تھا اور بہت سی باتیں جماعت کے خلاف سنی تھیں لیکن یہاں آکر ان سب کا جواب مل گیا۔میں نے جماعت کے خلیفہ کو دیکھا۔ان کی باتیں سنیں۔ان سے بہت علم حاصل کیا۔جو باتیں جماعت کے خلیفہ نے بیان کیں ان سے بہت زیادہ متاثر ہوں۔پھر کہتے ہیں کہ خلیفہ کی باتیں سن کر میرا پختہ ایمان ہے کہ تمام دنیا کے افراد اس پیغام اور راستے کو اختیار کر لیں گے جو اللہ جل شانہ کی طرف سے شروع ہوا ہے۔میری طرف سے آپ کو سلام اور امن ملے۔لتھوینیا سے پچاس افراد پر مشتمل وفد شامل ہوا۔ان میں چالیس غیر از جماعت دوست تھے اور دس احمدی احباب تھے۔ایک صاحبہ کہتی ہیں کہ جلسہ کے دوران ایسا محسوس ہوا جیسے میں جماعت کا ہی حصہ ہوں۔یہ جلسہ ہمیں برابری، محبت اور دوسروں کی خدمت کرنے کا سبق دیتا ہے جس کا عملی مظاہرہ اس جلسہ میں دیکھا جاسکتا ہے۔لتھوینیا سے تعلق رکھنے والے ایک جیرونی ماس (Jaronimas) صاحب ہیں وہ کہتے ہیں میں ایک مصنف ہوں اور یہاں اسلام کے بارے میں سیکھنے آیا ہوں۔خدا کی وحدانیت کا درس جس انداز میں خلیفہ نے دیا ہے