خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 446
خطبات مسرور جلد 16 446 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 ستمبر 2018 شامل ہو اہوں۔جو باتیں جماعت کے خلاف سنی تھیں جلسہ کا ماحول دیکھ کر اب میر ادل ہر لحاظ سے صاف ہو گیا ہے۔سب طرف بھلائی اور قرآن و حدیث کی تعلیم تھی اور محبت سب کے لئے اور نفرت کسی سے نہیں نے مجھے بہت متاثر کیا۔ہر طرف سکون ہی سکون تھا۔خاص طور پر خلیفہ وقت کی تقریروں کے دوران بڑا سکون ملا۔جلسہ کے دوران ہی میں نے فیصلہ کیا کہ اب میں بھی احمدیت میں داخل ہو تا ہوں۔میری کافی ذاتی مشکلات تھیں لیکن جب میں جلسہ میں شامل ہوا تو میری مشکلات خود بخود دور ہوناشروع ہو گئیں۔اب میں جماعت کے پیغام کو آگے پھیلاؤں گا۔پھر لیٹویا (Latvia) سے آنے والے وفد کے تاثرات ہیں۔لیٹویا سے ایک میڈیکل کے سٹوڈنٹ آئے تھے۔وہ کہتے ہیں کہ جلسہ سالانہ جرمنی میں شامل ہونا میرے لئے بڑے اعزاز کی بات ہے۔مجھے ایسے محسوس ہوا کہ یہ جلسہ ان تمام لوگوں کا اجتماع ہے جو کہ مضبوط ایمان اور مطمئن روحوں کے مالک اور بھائی چارے والے پرامن لوگ ہیں۔میرے لئے یہ بات باعث حیرت تھی کہ کس طرح ہر کوئی محویت کے ساتھ تقاریر سننے اور اپنے کام میں مگن تھا اور اسی طرح بڑا اعزاز تھا کہ خلیفہ وقت سے بھی ملاقات میری ہوئی۔انہوں نے جرمنی میں مہاجرین کے بارے میں اور اسلام کے بارے میں لوگوں کے دلوں میں پائے جانے والے خوف کے متعلق بات کی اور اس بات پر مجھے خوشی ہوئی کہ جماعت احمد یہ دنیا میں امن اور بھائی چارے کا پیغام دے رہی ہے اور جرمن معاشرے میں دوستانہ ہمسائیگی اور خدمت پر زور دے رہی ہے۔لیٹویا میں ایک غیر احمدی پاکستانی ماسٹرز کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔یہ بھی جلسہ میں شامل ہوئے۔کہتے ہیں کہ میں گزشتہ ماہ ہی سٹڈی ویز اپر پاکستان سے لیٹویا آیا ہوں۔مجھے بھی جلسہ میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی جو کہ شش و پنج کے بعد میں نے قبول کرلی۔جب میں جلسہ گاہ پہنچا تو وہاں انتظامیہ کو دیکھ کر میں بہت حیران ہوا کیونکہ وہاں بہت زیادہ لوگ تھے۔انتظامیہ بڑی خوبصورتی اور سمجھداری سے سب کو سنبھال رہی تھی۔جلسہ گاہ میں بہت سارے لوگ تھے جن میں کافی سارے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے غیر مسلم مہمان تھے اور ان سب کو اس کے لئے دعوت دی گئی تھی تا کہ وہ دین اسلام کا آکر خود مشاہدہ کریں۔میں نے اتنا پیار، محبت، عزت، احترام اور مہمان نوازی کبھی اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھی جتنی میں نے وہاں دیکھی اور مجھے یہ دیکھ کر بہت اچھا لگا کہ اس سے تمام غیر مسلموں پر بہت اچھا اثر پڑے گا۔دین اسلام کی طرف آنے کی ضرور کوشش کریں گے۔میں کیونکہ احمدی نہیں ہوں اس لئے میرے دل میں بھی کچھ غلط فہمیاں تھیں جو ہر دوسرے فرقے والے مسلمانوں کے دل میں ہوتی ہیں۔وہاں جب میں نے تقاریر سنیں اور وہاں پر لکھے ہوئے کلمات دیکھے اور نماز بھی پڑھی تو مجھے کوئی فرق نہیں لگا۔یہی سب کچھ ہم بھی کرتے ہیں اور یہی سب کچھ احمدی بھی کر رہے ہیں۔ان کا کلمہ بھی وہی ہے۔نماز بھی وہی ہے۔قرآن بھی وہی ہے۔سب سے زیادہ قابل غور بات ختم نبوت تھی جس پر میں اب سوچنے پر مجبور ہو گیا ہوں کہ غور و فکر کروں کہ کیا میں اپنے فرقے کو سچا کہوں یا احمدی فرقے کو۔سب سے بڑا فائدہ مجھے جلسے پر آنے کا یہی ہوا ہے کہ میں نے احمدی لوگوں میں بیٹھ کر سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور اپنے کانوں سے سنا ہے اور اب میں اپنے طور پر اچھی طرح دیکھوں گا کہ اسلام اصل میں کیا ہے اور ختم نبوت کیا ہے۔مجھے خلیفہ وقت کی تقریر