خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 445
خطبات مسرور جلد 16 445 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 ستمبر 2018 بارے میں بھی، اللہ تعالیٰ کی آپ کے ساتھ تائیدات کے بارے میں بھی۔پھر بوسنین وفد میں ایک خاتون معمرہ صاحبہ تھیں۔کہتی ہیں کہ میں پہلی مرتبہ جلسہ میں شامل ہوئی اور خلیفہ وقت سے ملاقات کی جلسہ کے ایام کس قدر سرعت سے گزر گئے ہمیں پتہ ہی نہیں لگا۔کاش یہ ایام اور بھی لمبے ہو جاتے۔میری خواہش ہے کہ ہر جلسہ میں شرکت کروں۔ایک کمزور بینائی رکھنے والے مونٹی نیگرو سے تعلق رکھنے والے ایک شخص تھے۔کہتے ہیں کہ میں کمزور بینائی رکھنے والا شخص ہوں مگر اس جلسہ میں شامل ہو کر میں نے سب کچھ دل کی آنکھوں سے دیکھا ہے اور اس جلسہ سے روح کو سیراب کر کے واپس جا رہا ہوں۔میں جس ملک یا علاقے سے تعلق رکھتا ہوں وہاں دین اور مذہب سے لوگ بہت دور ہیں۔اور روحانیت کیا چیز ہے؟ اس کی ہمیں کوئی خبر نہیں ہے۔مگر جلسہ کے دوران میں نے محسوس کیا ہے کہ خدا موجود ہے اور اس کی برکتیں یہاں امن اور سلامتی اور اطمینان قلب کی شکل میں نازل ہو رہی ہیں جس سے میں نے بھی حصہ لیا ہے۔اس سال جلسہ جرمنی پر بلغاریہ کے 56 رکنی وفد نے شرکت کی۔اس میں 31 غیر از جماعت مہمان تھے۔ان کی مجھ سے ملاقات بھی ہوئی۔وفد میں شامل ایک خاتون کریلکا (Kirilka) صاحبہ اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ میں کئی پروگراموں میں شامل ہوئی ہوں لیکن جماعت احمدیہ کے جلسہ میں روحانی ماحول تھا۔بہت پر سکون ماحول تھا جو اب رہتی زندگی تک سکون کا سامان ہے۔لوگوں کے دلوں میں ہمارے لئے احترام اور محبت تھی۔ان کی آنکھوں سے ان کے ایمان کا اندازہ ہوتا تھا کہ کیسے نیک لوگ ہیں۔خلیفہ وقت کی تقاریر نے میرے دل پر بہت گہرا اثر کیا۔میں تقریر کے دوران روتی رہی اور مجھے ایسا لگتا تھا کہ اب میری نئی زندگی شروع ہو رہی ہے۔میں کوشش کروں گی کہ اب باقی زندگی ان باتوں کی روشنی میں گزاروں۔میں آپ کی شکر گزار ہوں کہ اس روحانی ماحول سے فائدہ اٹھانے کا مجھے موقع دیا۔تو یہ لوگ جو احمدیت کو جانتے بھی نہیں یہ لوگ بھی یہاں آ کے اس ماحول سے اثر لیتے ہیں۔ان کے لئے یا یہ جلسہ بابرکت ہو جاتا ہے۔ایک عیسائی خاتون کریسی میرا (Kracimira) صاحبہ کہتی ہیں میں اپنے خاوند اور بچوں کے ساتھ جلسے میں شامل ہوئی ہوں۔میں نے ایسی منظم مہمان نوازی پہلے کبھی نہیں دیکھی۔والدین کا احترام، بچوں کی تربیت کے متعلق بہت کچھ سیکھا ہے اسے اب زندگی کا حصہ بناؤں گی۔مرد حضرات جس طرح خواتین کا احترام کر رہے تھے یہ دیکھ کر بہت حیرانی ہوئی۔عیسائیت میں عورتوں کے لئے اتنا عزت اور احترام میں نے نہیں دیکھا اور شکریہ کے ساتھ آپ کے لئے دعا گو ہوں۔پس یہ مردوں کے لئے بھی ایک سبق ہے کہ صرف جلسہ کے دنوں میں نہیں، ہمیشہ عورت کا یہ احترام ان کے دلوں میں رہنا چاہئے اس تعلیم کے مطابق جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں دی ہے۔ایک دوست مسلمان تھے محمد یوسف صاحب۔جلسہ میں شامل ہوئے۔کہتے ہیں میں پہلی بار اس جلسہ میں