خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 444
خطبات مسرور جلد 16 444 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 ستمبر 2018 کمزوریوں کو ایک لال کتاب جو بنی ہوئی ہے اس میں لکھیں تاکہ آئندہ یہ دہرائی نہ جائیں۔جرمنی میں کام کرنے والے کارکنان کے بارے میں یہ شکایت آیا کرتی تھی کہ ان کے چہروں پر مسکراہٹ نہیں ہوتی اور اچھا سلوک نہیں ہوتا۔ڈیوٹی دیتے ہوئے سخت رویہ ہوتا ہے۔اس دفعہ عمومی طور پر اس بارے میں ان کی بھی اچھی رپورٹ ہے۔آئندہ سالوں میں اسے مزید بہتر کرنے کی کوشش کریں۔ایک غلطی کی طرف میں توجہ دلا دیتا ہوں اور وہ تھی مردانہ جلسہ میں ایک سیشن میں گھر کے حوالے سے ایک نظم پڑھی گئی تھی۔اس کو پڑھنے کا اند از غلط تھا۔ہمارا سٹیج کوئی ڈراموں کا سٹیج نہیں ہے جہاں اس انداز میں نظمیں پڑھی جائیں۔اپنی روایات کو ہمیشہ ہمیں سامنے رکھنا چاہئے اور اس قسم کے انداز نہیں اپنانے چاہئیں جو ہماری روایات سے مختلف ہوں۔دوسرے جلسہ کے پروگرام بنانے والوں کو ہمیشہ یہ خیال رکھنا چاہئیے کہ جلسہ کے سیشنز کے دوران جو " و نظمیں پڑھی جاتی ہیں وہ صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور خلفاء کی نظمیں ہوں۔باقی نظمیں نہ پڑھی جائیں۔پس اس طرف خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔میں نے افسر جلسہ سالانہ کو بھی وہاں توجہ دلا دی تھی۔اس کے بعد اب میں بعض مہمانوں کے تاثرات پیش کرتا ہوں جن سے پتہ چلتا ہے کہ جلسہ کی برکات کا صرف احمدیوں پر اثر نہیں ہو تا بلکہ غیروں پر بھی اثر ہوتا ہے۔بوسنیا سے ایک غیر احمدی مسجد کے امام آئے ہوئے تھے۔جلسہ میں شریک ہوئے۔جلسہ سے قبل ایک تبلیغی نشست میں انہوں نے کہا کہ میں خود جماعت کے بارے میں تحقیق کرنا چاہتا ہوں تاکہ ذاتی علم کی بنا پر جماعت کے بارے میں صحیح رائے قائم کر سکوں۔یہ بڑے کھلے دل کے امام ہیں۔اسی بنا پر جلسہ میں شمولیت کی ان کو دعوت بھی دی گئی۔پھر جلسہ پر کچھ وقت گزارنے کے بعد وہ کہتے ہیں کہ احمدیوں کے درمیان کچھ وقت گزارنے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ تم ہی وہ لوگ ہو جو کہ اسلام کی حقیقی تعلیم کی تبلیغ صحیح معنوں میں کر رہے ہو۔جلسہ کی تمام کارروائی کو توجہ اور غور سے دیکھتے رہے۔جلسہ کے بعد ان کو وفد کے باقی ممبر ان کے ساتھ جامعہ احمدیہ جرمنی بھی دکھایا گیا۔انہوں نے جامعہ دیکھنے کے بعد کہا کہ افسوس کہ مسلمان دین اور دنیا کی تعلیم میں بہت پیچھے ہیں۔مگر ایک طرف جہاں جلسہ کے دوران میں نے دیکھا کہ امام جماعت احمدیہ نے دنیاوی علمی میدان میں نمایاں کام حاصل کرنے والے طلباء اور طالبات کو سندات دیں اور احباب جماعت میں دنیاوی علم میں آگے بڑھنے کی روح کو فروغ دے رہے تھے۔دوسری طرف جامعہ کی سیر کے بعد اس بات کا بھی ادراک ہو گیا کہ جماعت احمد یہ خلافت کی اقتدا میں کس طرح دینی علم کی اشاعت کے لئے منظم طریق پر کوشش کر رہی ہے اور کس قدر شاندار توازن کے ساتھ اس میدان میں آگے بڑھ رہی ہے اور مسلمانوں کی کھوئی ہوئی ساکھ کو واپس لانے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے۔اور اس کے بعد وہ مجھے بھی ملے تھے۔انہوں نے بتایا کہ میں براہین احمدیہ اور تذکرۃ پڑھنا چاہتا ہوں۔میں نے کہا تذکرۃ پڑھنے کی بجائے آپ اسلامی اصول کی فلاسفی اور دعوۃ الامیر Invitation to Ahmadiyyat پڑھیں۔اس سے آپ کو زیادہ تعارف حاصل ہو گا جماعت کے بارے میں بھی، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوے کے بارے میں بھی، حالات کے بارے میں بھی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علم و عرفان کے