خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 443
خطبات مسرور جلد 16 443 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 ستمبر 2018 یہاں تک بھی الزام ہے کہ ان کا قرآن کریم بھی علیحدہ ہے۔لیکن بہت سارے مسلمان بھی جب احمدیوں سے ملیں اور جلسے کے ماحول کو دیکھیں تو یہ تمام غلط تاثرات دور ہو جاتے ہیں اور اس بات کا اظہار بھی کرتے ہیں۔جرمنی میں آنے والوں مسلمانوں نے بھی اس بات کا اظہار کیا۔عرب ممالک سے بھی ہندوستان سے بھی پاکستان سے بھی دوسری جگہوں سے بھی۔اسی طرح یہ شامل ہونے والے کام کرنے والے رضا کاروں کے کاموں کی بھی تعریف کرتے ہیں ، ان کے رویوں کی تعریف کرتے ہیں۔بیلجیم کے جلسہ میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ تمام چیزیں دیکھنے میں آئیں اور وہ جلسہ بھی بڑا بابرکت اور کامیاب جلسہ تھا۔چھوٹی جماعت ہونے کے باوجو د اور اس بات کے باوجود کہ وہاں بیلجیم کے افراد جماعت سے زیادہ تعداد میں مہمان شامل ہو گئے تھے، جس کا میں نے پہلے ذکر بھی کیا تھا ان کی آخری تقریب میں، انہوں نے بڑے اچھے طریقے سے سب کام سنبھالے۔میں چودہ سال بعد ان کے جلسہ میں شامل ہوا ہوں۔اس لحاظ سے ان کو فکر تھی۔تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے ان کو گھبراہٹ بھی تھی لیکن اللہ تعالی کے فضل سے انہوں نے بڑے اچھے انتظامات کئے۔وہاں بھی جو غیر مسلم آئے بیشک تھوڑے تھے انہوں نے جلسہ کے انتظامات اور جماعت کے کام کو عمومی طور پر جو جماعت وہاں کر رہی ہے بڑا سر اہا اور جماعت کے کاموں اور امن قائم کرنے کی دنیا میں جو کوشش ہے اس کی عمومی تعریف کی۔پس جماعت جہاں بھی ہو، جہاں کی بھی ہو اللہ تعالیٰ کے فضل سے غیروں پر اپنا نیک اثر قائم کرتی ہے اور تبلیغ کا ذریعہ بنتی ہے۔پس ہر فرد جماعت کو اس بات کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آکر انہیں اپنی حالتوں کو بہتر کرنے کی کس قدر ضرورت ہے۔ہمارا ہر اجتماع اور ہر جلسہ جس علاقے میں بھی ہو رہا ہو وہاں کے لوگوں پر ایک غیر معمولی اثر ڈالتا ہے۔آج سے خدام الاحمدیہ یو کے کا اجتماع بھی شروع ہو رہا ہے۔اس حوالے سے میں تمام شامل ہونے والے خدام کو بھی یاد دہانی کروادیتا ہوں کہ اپنے رویوں کو ایسار کھیں جو علاقے کے لوگوں پر نیک اثر چھوڑنے والے ہوں۔اللہ تعالیٰ ان کے اجتماع کو بھی بابرکت فرمائے اور موسم کی خرابی کی وجہ سے جو بعض ان کو پریشانیاں اور گھبراہٹ ہے اللہ تعالیٰ اس کو بھی دُور کرے اور ساز گار موسم کر دے۔اب دونوں جلسوں میں کام کرنے والے کارکنان کا بھی میں شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، جرمنی میں بھی، بیلجیم میں بھی کہ انہوں نے اپنی استعدادوں اور صلاحیتوں کے مطابق جلسہ میں شامل ہونے والے مہمانوں کی خدمت کی۔اسی طرح وہاں تمام شامل ہونے والے جو احمدی لوگ تھے ان کو بھی ان کا شکریہ ادا کرنا چاہئے۔مختلف طبقوں اور مزاجوں کے لوگ ہوتے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں۔بیلجیم میں تو کام کرنے والے کارکنوں کی کمی بھی تھی لیکن اس کے باوجود جیسا کہ میں نے کہا بڑے احسن رنگ میں انہوں نے اس لحاظ سے اپنے کام سر انجام دیئے۔اسی طرح کارکنان کو بھی شکر گزار ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں خدمت کا موقع دیا اور آئندہ کے لئے اپنے آپ کو تیار کریں کہ جو کمزوریاں اور کمیاں رہ گئی ہیں ان کے بارے میں خود سوچیں اور دیکھیں کہ ان کو آئندہ سالوں میں کس طرح بہتر کرنا ہے۔خاص طور پر انتظامیہ کو، افسران کو ، اپنے جائزے لینے چاہئیں۔اپنی منصوبہ بندیوں کے جائزے لینے چاہئیں اور تمام