خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 442
خطبات مسرور جلد 16 442 38 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 ستمبر 2018 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 21 ستمبر 2018ء بمطابق 21 تبوک 1397 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یو کے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: گزشتہ دنوں اللہ تعالیٰ نے جلسہ سالانہ جرمنی اور بیلجیم میں شرکت کی توفیق دی اور جیسا کہ ایم ٹی اے دیکھنے والوں نے دنیا میں بھی دیکھا ہو گا، آپ نے بھی دیکھا ہو گا، دونوں جلسے اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑے بابرکت تھے۔جرمنی میں جماعت بڑی ہے اور پھر سالہا سال سے پہلے حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ جرمنی کے جلسہ میں شامل ہوتے رہے پھر میں اس میں شامل ہو رہا ہوں۔اس لحاظ سے جرمنی کی جماعت میں اب جلسے کا نظام بہت حد تک منظم ہو چکا ہے۔باہر سے مہمان وہاں بھی بہت آتے ہیں۔ارد گرد کے مشرقی یورپ کے لوگوں کے علاوہ بعض دوسرے ممالک سے بھی جلسہ میں شامل ہونے کے لئے لوگ آتے ہیں۔اس سال تو افریقہ کے بعض ممالک سے بھی لوگوں نے وہاں جلسہ میں شرکت کی اور ہمیشہ کی طرح، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر جلسہ میں ہوتا ہے، باہر سے آنے والے مہمان آکر اچھا تاثر ہمارے جلسوں سے لیتے ہیں اور اس کا اظہار بھی کرتے ہیں۔چنانچہ جرمنی میں بھی بیلجیم میں بھی جو لوگ بھی جلسہ میں شامل ہوئے انہوں نے اس بات کا اظہار کیا۔جماعت کے بارے میں اپنے نیک اچھے تاثرات کا اظہار کیا۔جلسہ کے انتظامات اور جلسہ کے عمومی ماحول کی بڑی تعریف کی کہ ہمیں یہاں آکر پتہ چلا ہے یا بعض لوگ جو پہلے آچکے ہیں دوبارہ آئے انہوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ آپ کے جلسوں سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام کی حقیقی تعلیم کیا ہے اور آجکل میڈیا جس طرح اسلام کے بارے میں دنیا کو غلط تصویر پیش کرتا ہے جو کہ انتہائی بھیانک تصویر ہے، اسلام کی حقیقی تعلیم اور بچے مسلمان کا عمل اس کے بالکل الٹ ہے۔جلسہ میں شامل ہو کر یہ لوگ ہر کارکن اور ہر افسر بلکہ ہر احمدی کو بڑے غور سے دیکھتے ہیں کہ ان کے عمل کیا ہیں۔تعلیم اگر اچھی بھی ہو لیکن اس تعلیم کو ماننے والوں کے عمل اچھے نہ ہوں تو پھر اس تعلیم کا نیک اثر قائم نہیں ہو تا۔پس اس لحاظ سے جلسہ کے تمام رضاکار جیسا کہ پہلے بھی میں کئی دفعہ کہہ چکا ہوں کارکنان اور شاملین ایک خاموش تبلیغ میں حصہ لے رہے ہوتے ہیں۔غیر مسلموں کے دماغوں سے اسلام کے بارے میں غلط تأکثر اور تحفظات کو دور کر رہے ہوتے ہیں اور مسلمانوں کے دلوں میں سے نام نہاد علماء نے جو غلط پر اپیگینڈا کر کے غلط فہمیاں پیدا کی ہوئی ہیں اسے دور کر رہے ہوتے ہیں۔لوگ تو ہمیں یہی کہتے ہیں ناں کہ احمدی نعوذ باللہ مسلمان نہیں ہیں، کلمہ نہیں پڑھتے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی نہیں مانتے۔آپ کے خاتم النبیین ہونے پر یقین نہیں رکھتے۔بلکہ