خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 441
خطبات مسرور جلد 16 441 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 ستمبر 2018 اور آج یہ ایک احمدی کی بہت بڑی ذمہ داری ہے۔پس اس لحاظ سے ہر ایک کو توجہ کرنی چاہئے۔جلسہ کے لحاظ سے بعض انتظامی باتیں بھی کرنی چاہتا ہوں۔سب سے پہلے تو یہ جگہ جو جلسہ کے لئے لی گئی ہے اس کے ماحول میں خیال رکھیں ، نہ انتظامیہ کو کوئی تکلیف ہو ، نہ باہر نکلتے ہوئے سڑکوں پر ہمسایوں کو تکلیف ہو۔اس بات کو بہر حال یقینی بنانا چاہئے۔غیر مسلموں کو تبھی اسلام کا صحیح پتہ چلے گا جب ان پر یہ اظہار ہو گا کہ احمدی کس طرح ہمسایوں کا بھی خیال رکھنے والے ہیں اور قانون کی پابندی کرنے والے ہیں اور باوجو د اتنی تعداد ہونے کے کسی قسم کی پریشانی کا باعث نہیں بن رہے۔بلکہ جلسہ کی انتظامیہ بھی خاص طور پر اس بات کا خیال رکھے اور انتظامات کرنے چاہئیں۔گو یہ تعداد بعض ملکوں کے جلسوں کے لحاظ سے تو معمولی ہے بلکہ بعض جگہ جہاں جماعتیں زیادہ ہیں وہاں تو خدام الاحمدیہ کے اجتماع کی تعداد بھی اس سے زیادہ ہوتی ہے لیکن اس ملک کے لحاظ سے، یہاں کی تعداد کے لحاظ سے، یہاں کی انتظامیہ کے انتظامات کے لحاظ سے یہ اس وقت کافی بڑی تعداد ہے۔پھر جلسہ کے دنوں میں جو اصل مقصد ہے دعاؤں کا اس کو بھی سامنے رکھیں۔درود پڑھتے رہیں۔ذکر الہی سے اپنی زبانوں کو تر کریں۔نمازوں کے اوقات میں بھی یہاں اگر نمازیں ہو رہی ہیں یا مشن ہاؤس میں نمازیں ہو رہی ہیں تو وقت پر آئیں۔اور دو دن سے خاص طور پر نوٹ کر رہا ہوں کہ لوگ مشن ہاؤس میں لیٹ آتے ہیں اور پھر جلدی جلدی چل کر جب آتے ہیں تو لکڑی کے فرش کی وجہ سے شور پیدا ہوتا ہے، آواز پیدا ہوتی ہے۔تو پہلے آکر بیٹھا کریں تا کہ دوسروں کی نمازیں ڈسٹرب نہ ہوں۔جلسہ کی تقریروں کو میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں کہ غور سے سنیں اور اس کے لئے یہ با قاعدہ انتظام رکھیں کہ جلسہ کے وقت میں ہر پروگرام میں شامل ہونا ہے اور تقریریں سنی ہیں۔اسی طرح پھر آپ اپنے بچوں کی اور اگلی نسلوں کی تربیت کر سکتے ہیں۔ان میں یہ احساس پیدا کر سکتے ہیں کہ جلسے کی کیا اہمیت ہے اور ہم نے جلسے کی تقریروں کو سننا ہے۔پس اس لحاظ سے بھی خاص خیال رکھیں۔جلسوں میں بھی آپس میں بد مزگیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔کچھ پرانی رنجشیں لوگوں کی چل رہی ہوتی ہیں اور جب اکٹھے ہوتے ہیں تو وہ ابھر کے سامنے آجاتی ہیں اس لئے اس ماحول کو اس لحاظ سے بالکل پاک صاف رکھیں۔کسی بھی قسم کی کوئی ایسی بات نہ ہو جو کسی طرح بھی ایک دوسرے کے لئے دل آزاری کا باعث بنے اور اس کی وجہ سے پھر لوگوں میں بھی غلط تاثر قائم ہو۔مجھے نہیں پتہ کہ انتظامیہ نے تعداد کو مد نظر رکھتے ہوئے کھانے وغیرہ کا انتظام کیا ہے کہ نہیں۔بہر حال کیا ہو گا۔اگر اس میں کوئی کمی بیشی بھی ہو جائے تو صبر کا نمونہ دکھائیں انشاء اللہ تعالیٰ انتظامات ہو جائیں گے۔انتظامیہ کو تھوڑا سا وقت بھی دیں۔ان کے لئے تو یہ میرا خیال ہے کافی سالوں کے بعد پہلا موقع ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کے لئے انتظامات کرنے ہیں۔اللہ تعالیٰ بہر حال ہر لحاظ سے جلسہ کو بابرکت فرمائے اور جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا سب لوگ ان جلسے کے دنوں میں دعائیں بھی کرتے رہیں۔نمازوں کی طرف بھی توجہ رکھیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی دعاؤں کا بھی اللہ تعالیٰ آپ کو وارث بنائے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 28 ستمبر 2018 ء تا 04 اکتوبر 2018ء جلد 25 شمارہ 39 صفحہ 05 تا08)