خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 440
خطبات مسرور جلد 16 440 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 14 ستمبر 2018 مجلسیں ہوتی ہیں اور وہاں بڑے بڑے کسان اور لیکچرار اپنے لیکچر پڑھتے اور تقریریں کرتے ، شاعر قوم کی حالت پر نوحہ خوانیاں کرتے ہیں۔وہ بات کیا ہے کہ اس کا کچھ بھی اثر نہیں ہوتا۔قوم دن بدن ترقی کی بجائے تنزیل ہی کی طرف جاتی ہے۔" فرمایا کہ " بات یہی ہے کہ ان مجلسوں میں آنے جانے والے اخلاص لے کر نہیں جاتے۔" (لمفوظات جلد 1 صفحہ 401) اخلاص نہیں ہے صرف ظاہری باتیں ہیں مقرروں کی تقریروں کی لسانیاں ہیں اور سننے والے صرف حظ اٹھا رہے ہیں ان میں اخلاص نہیں ہے۔پس یہ ہے آپ کی طبعی پسند۔یہ ہے آپ کی خواہش اپنے مانے والوں کے لئے کہ وقتی طور پر تقریروں کے اور مقرر کے جوش سے کوئی متاثر نہ ہو بلکہ نفس مضمون کو سمجھ کر اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں۔اگر صرف تقریروں کو سنا اور جلسہ گاہ سے باہر آکر اس کو بھلا دینا ہے تو یہ ترقی نہیں بلکہ تنزل کی طرف لے جانے والی باتیں ہیں اور مسلمانوں کی آجکل جو ذلت اور تنزل کی حالت ہے وہ اس لئے ہے کہ بڑے بڑے مقررین کی تقریریں توسن لیتے ہیں مگر عمل نہیں کرتے۔عمل بالکل نہ ہونے کے برابر ہے بلکہ ہے ہی نہیں۔اور جس قوم میں عمل نہ ہو وہ کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔دنیا میں آج مسلمانوں کی جو حالت ہے اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ صرف باتیں ہیں اور عمل نہیں۔اگر عمل ہو تا تو آج یہ حالت نہ ہوتی۔پس جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ہم نے مانا ہے تو اس لئے کہ وہ کمزوریاں جو مسلمانوں میں پیدا ہو گئی ہیں ان کو ڈور کیا جائے ورنہ بے فائدہ ہے۔ہم ایک طرف تو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ دنیا کو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کے نیچے لے کر آنا ہے دوسری طرف دنیا ہم پر غالب ہو رہی ہو اور جلسہ اور جلسہ پر آنا بھی صرف اس لئے ہو کہ کچھ دوستوں کو مل لیں گے اور کچھ جلسہ سن لیں گے۔دوستوں کو ملنا بھی اچھی بات ہے لیکن جلسہ کا یہ ایک ضمنی فائدہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمایا ہے اور ضمنی فائدہ بھی بلا مقصد نہیں ہے بلکہ اس لئے آپ نے فرمایا کہ تعلق اخوت اور موڈت پیدا ہو۔احمدیوں کا آپس میں بھائی چارہ اور پیار پیدا ہو۔حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف توجہ پید اہو اور جماعت کی مضبوطی اور ایک ہونے کا نظارہ ہر جگہ نظر آئے۔پس یہاں آنے کے اصل مقصد کو اپنے سامنے رکھیں۔جو جلسہ سننا اور ان باتوں پر عمل کرنا ہے ان کو یہاں سنیں۔اللہ تعالیٰ ہر ایک کو یہ مقصد حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔جلسہ کی برکات سے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں کی برکات سے فائدہ اٹھانے والے ہوں اور اپنے قول اور عمل سے دنیا کو اسلام کی حقیقی تصویر دکھانے والے ہوں۔دنیا ہمیشہ ہر احمدی کے لئے ایک ثانوی حیثیت رکھتی ہو اور اصل مقصد اور مدعا دین ہو اور اللہ تعالیٰ کی رضا ہو۔اللہ تعالیٰ کی رضا کی حقیقت کو جو سمجھ جائے وہ اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنے والا بن جاتا ہے اور اس کی مخلوق کا حق ادا کرنے والا بن جاتا ہے یا بن سکتا ہے۔امن ، پیار اور محبت اور بھائی چارہ پیدا کرنے والا بن سکتا ہے اور اس چیز کی آج دنیا کو ضرورت ہے۔دنیا میں جو افرا تفری ہے اس کو اگر دور کرنا ہے تو صرف اسی صورت میں کہ ہم دنیا کو اپنے خدا کو پہچاننے کی طرف لے کر آئیں ، مخلوق کے حق ادا کرنے کی طرف لے کر آئیں