خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 439 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 439

خطبات مسرور جلد 16 439 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 14 ستمبر 2018 احمدیوں کو تو جیسا کہ میں نے کہا ایک انقلاب اپنی حالتوں میں پیدا کر لینا چاہئے۔یہ ٹریننگ کیمپ جو اللہ تعالیٰ نے میسر فرمایا ہے اس میں آنے کا فائدہ تو تبھی ہے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خواہشات کے مطابق دنیا کو اپنا خادم بنا کر ایک پاک تبدیلی پیدا کرنے والے بنیں۔یہاں آکر جلسہ کی کارروائی کو غور سے سنیں اور اس نیت سے سنیں کہ ہم نے ان باتوں پر عمل کرنا ہے تا کہ اپنے اندر نیک تبدیلیاں پید ا کر سکیں۔جلسہ کی کارروائی کو غور سے سننے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک موقع پر فرمایا کہ "سب کو متوجہ ہو کر سننا چاہئے اور پورے غور اور فکر کے ساتھ سنو کیونکہ یہ معاملہ ایمان کا معاملہ ہے۔" یہ فقرہ جو آپ نے فرمایا یہ معاملہ ایمان کا معاملہ ہے یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔معمولی فقرہ نہیں، غور کرنے والا فقرہ ہے کیونکہ یہ معاملہ ایمان کا ہے۔اس میں سستی اور غفلت اور عدم توجہ بہت برے نتیجے پیدا کرتی ہے۔" فرماتے ہیں کہ "جو لوگ ایمان میں غفلت سے کام لیتے ہیں اور جب ان کو مخاطب کر کے کچھ بیان کیا جاوے تو غور سے اس کو نہیں سنتے ہیں ان کو بولنے والے کے بیان سے خواہ وہ کیسا ہی اعلیٰ درجہ کا مفید اور موکتر کیوں نہ ہو کچھ بھی فائدہ نہیں ہو تا۔ایسے ہی لوگ ہوتے ہیں جن کی بابت کہا جاتا ہے کہ وہ کان رکھتے ہیں مگر سنتے نہیں۔دل رکھتے ہیں پر سمجھتے نہیں۔پس یاد رکھو کہ جو کچھ بیان کیا جاوے اسے توجہ اور بڑی غور سے سنو کیونکہ جو توجہ سے نہیں سنتا ہے وہ خواہ عرصہ دراز تک فائدہ رساں وجود کی صحبت میں رہے اسے کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔" ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 142-143) پس آپ نے یہ ان لوگوں کو تنبیہ فرمائی جو جلسہ میں رہتے ہوئے ، جلسہ میں شامل ہونے کے باوجو د جلسہ سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔نعرہ تکبیر تو بڑے زور سے لگاتے ہیں، بڑا بلند کرتے ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ کی بڑائی کا یہ اعلان اور نعرہ چند لمحوں کے بعد ہی دل و دماغ سے غائب ہو جاتا ہے۔پس ہر ایک اپنا جائزہ لے کہ کہیں ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشاد کے مطابق ان لوگوں میں تو شامل نہیں جن کو جلسہ کوئی فائدہ نہیں دے رہا۔پس جب یہاں جلسہ میں شامل ہونے کے لئے آئے ہیں تو ہر شامل ہونے والا جلسہ کی تمام کارروائی میں شامل ہو۔صبر اور تحمل سے بیٹھے اور تمام تقاریر سنے اور جو باتیں بیان ہوئی ہوں ان سے علمی اور عملی فائدہ حاصل کرے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تقاریر سننے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ "سب صاحبان متوجہ ہو کر سنیں۔میں اپنی جماعت اور خود اپنی ذات اور اپنے نفس کے لئے یہی چاہتا اور پسند کر تاہوں کہ ظاہری قیل و قال جو لیکچروں میں ہوتی ہے اس کو ہی پسند نہ کیا جاوے اور ساری غرض و غایت آکر اُس پر ہی نہ ٹھہر جائے کہ بولنے والا کیسی جادو بھری تقریر کر رہا ہے۔الفاظ میں کیسا زور ہے۔میں اس بات پر راضی نہیں ہو تا۔" صرف مقرر کی جو تقریر ہے، لٹانی ہے اس پر میں راضی نہیں ہوتا۔فرمایا کہ " میں تو یہی پسند کرتا ہوں اور نہ بناوٹ اور تکلف سے بلکہ میری طبیعت اور فطرت کا ہی یہی اقتضا ہے۔یہی میری طبیعت چاہتی ہے " کہ جو کام ہو اللہ تعالیٰ کے لئے ہو۔جو بات ہو خدا کے واسطے ہو۔" ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 398-399) "مسلمانوں میں ادبار اور زوال آنے کی یہ بڑی بھاری وجہ ہے ورنہ اس قدر کا نفرنسیں اور انجمنیں اور