خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 436 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 436

خطبات مسرور جلد 16 436 خطیب جمعه فرمودہ مورخہ 14 ستمبر 2018 چاہتا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ بر خلاف اس کے جو کچھ حالت انسان کی ہے وہ جہنم ہے۔گویا خدا تعالیٰ کے سوازندگی (ماخوذ از ملفوظات جلد 2 صفحہ 102-103) بسر کرنا یہ بھی جہنم ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ تم سے یہ چاہتا ہے کہ تم پورے مسلمان بنو۔مسلمان کا لفظ ہی دلالت کرتا ہے کہ انقطاع کلی ہو یعنی مکمل طور پر خدا کی طرف جھکو۔یہ نہیں کہ ابھی خدا تعالیٰ کی طرف جھک گئے اور جب دنیا کے فائدے دیکھے تو دنیا کی طرف جھک گئے ، خدا بھول گیا۔آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمان کو مسلمان پیدا کر کے لا انتہا فضل کئے ہیں بشر طیکہ وہ غور کرے اور سمجھے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 2 صفحہ 304) جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ انسان کمزور ہے۔بعض دفعہ دنیا کی دلچسپیاں اسے اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کرتی ہیں۔انسان دنیا کی طرف زیادہ جھک جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کی طرف سے غافل ہو جاتا ہے یا بعض عملوں میں کمزوریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔اللہ تعالیٰ کے تمام احکام کو انسان پوری طرح سامنے نہیں رکھتا۔حق ادا نہیں کرتا۔بیوی بچوں کے حق ادا نہیں کئے۔عائلی مسائل پیدا کر دیئے۔گھروں میں لڑائیاں ہیں یا اپنے کاروبار میں ایمانداری سے کام نہیں کیا یا کاروبار کی وجہ سے نمازیں چھوڑ دیں یا اور بہت ساری باتیں ہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کمزوری سے نکالنے کے لئے بھی انتظام فرمایا ہوا ہے اور ہم احمدی خوش قسمت ہیں کہ ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے کی توفیق دی جو ہمیں بار بار مختلف موقعوں پر راستے سے بھٹکنے سے بچانے کے لئے رہنمائی فرماتے رہتے ہیں۔پھر آپ نے اللہ تعالیٰ کے اذن سے ایک یہ بھی انتظام فرمایا کہ ان جلسوں کا انعقاد فرمایا جہاں ہم سال میں ایک مرتبہ جمع ہو کر اپنی روحانی بہتری کا سامان کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔پس ہر شامل ہونے والے کو جلسہ کے اس مقصد کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہئے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے قریب تر ہوں۔دین کو مقدم کرنے والے ہوں اور دنیا میں رہتے ہوئے دنیا کو دین کا خادم بنانے والے ہوں۔اور یہ روح صرف اپنے اندر پیدا نہ کریں بلکہ اپنی اولاد میں بھی یہ روح پھونکیں کہ اللہ تعالیٰ ہم سے کیا چاہتا ہے اور انسانی زندگی کا مقصد کیا ہے۔نسلاً بعد نسل اس بات کو اپنی اولا دوں کے دلوں میں بٹھاتے چلے جائیں کہ دنیا کو دین کا خادم بنانے کے لئے اللہ تعالیٰ کے جو احکامات ہیں ان پر چلنے کی کوشش کرو اور اس آخری زمانے میں ہماری اصلاح کے لئے اور ہم پر فضل فرماتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے جو مسیح موعود اور مہدی معہود کو بھیجا ہے اس کی بیعت میں آکر ہمیشہ اس کی باتوں پر عمل کرنے والے بنے رہیں کہ اسی میں ہماری بقاء ہے۔اسی میں ہماری نسلوں کی بقاء ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس مقصد کو بیان کرتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں کہ " تمام مخلصین داخلین سلسلہ بیعت اس عاجز پر ظاہر ہو کہ بیعت کرنے سے غرض یہ ہے کہ تا دنیا کی محبت ٹھنڈی ہو۔اور اپنے مولیٰ کریم اور رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت دل پر غالب آجائے اور ایسی حالتِ انقطاع پیدا ہو جائے جس سے سفر آخرت مکر وہ معلوم نہ ہو۔" پس جب تک اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے کامل محبت نہ ہو ، نہ ہی دنیا کی محبت میں کمی آسکتی ہے ، نہ ہی آسمانی فیصلہ ، روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 351)