خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 435 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 435

خطبات مسرور جلد 16 435 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 14 ستمبر 2018 حالت میں رہنا چاہئے۔موت کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے۔یہ نہ ہو کہ موت آجائے اور تم فرمانبر داری سے باہر ہو۔آپ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ لذات دنیا تو ایک قسم کی ناپاک حرص پیدا کر کے طلب اور پیاس کو بڑھا دیتی ہیں۔استسقاء کے مریض کی طرح پیاس نہیں بجھتی۔وہ مریض جس کو بیماری ہو پانی پینے کی اس کی پیاس بجھتی ہی نہیں پیتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ ہلاک ہو جاتا ہے۔پس یہ بے جاسر توں آرزوؤں کی آگ بھی منجملہ اس جہنم کی آگ کے ہے جو انسان کے دل کو راحت اور قرار نہیں لینے دیتی بلکہ اس کو ایک تذبذب اور اضطراب میں غلطاں و پیچاں رکھتی ہے۔فرمایا کہ اس لئے میرے دوستوں کی نظر سے یہ امر ہر گز پوشیدہ نہ رہے کہ انسان مال و دولت یازن و فرزند کی محبت کے جوش اور نشہ میں ایسا دیوانہ اور از خودرفتہ نہ ہو جاوے کہ اس میں اور خدا تعالیٰ میں ایک حجاب پید اہو جاوے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 2 صفحہ 101-102) یعنی اگر دنیا اور اس کی چیزوں میں ضرورت سے زیادہ محو ہو گئے اور ڈوب گئے تو پھر ایسی حالت پیدا ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور خدا میں ایک حجاب پیدا ہو جاتا ہے۔ایک روک کھڑی ہو جاتی ہے۔پر دے بیچ میں آجاتے ہیں۔نہ بندہ خدا کی طرف بڑھتا ہے اور نہ خدا بندے کی طرف آتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے تو یہ فرمایا ہے کہ بندہ پہلے میری طرف آنے کی کوشش کرے گا تو میں اس کی طرف آؤں گا جیسا کہ حدیث میں بھی آیا ہے کہ بندہ ایک قدم آئے گا تو میں دو قدم آؤں گا۔وہ چل کر آئے گا تو میں دوڑ کر آؤں گا۔(صحيح البخارى كتاب التوحيد باب قول الله تعالى و يحذركم الله نفسه حدیث 7405) پس اگر اس حجاب اور روک کو دُور کرنا ہے تو دنیا کو دین کا غلام بنا کر ہی دُور کیا جا سکتا ہے۔آپ نے مزید فرمایا کہ مال اور اولاد اسی لئے تو فتنہ کہلاتی ہے کہ وہ بندے اور خدا میں ایک روک پیدا کر دیتی ہے۔آپ فرماتے ہیں ان سے یعنی مال اور اولاد سے بھی انسان کے لئے ایک دوزخ تیار ہوتا ہے اور جب وہ ان سے الگ کیا جاتا ہے تو سخت بے چینی اور گھبر اہٹ ظاہر کرتا ہے۔آپ فرماتے ہیں دو چیزوں کے باہم تعلق اور رگڑ سے حرارت پید اہوتی ہے۔ہاتھوں کو بھی رگڑو تو اس سے بھی حرارت پیدا ہوتی ہے۔پتھروں کو رگڑو تو اس سے گرمی پیدا ہوتی ہے۔اسی طرح پر انسان کی محبت اور دنیا اور دنیا کی محبت کی رگڑ سے جو حرارت پیدا ہوتی ہے اس سے الہی محبت جل جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی محبت پھر ختم ہو جاتی ہے۔انسان کی محبت اور دنیا کی محبت جب آپس میں رگڑیں تو پھر کیا نتیجہ نکلے گا؟ کہ اللہ تعالیٰ کی محبت ختم ہو جائے گی اور جل جائے گی۔فرمایا کہ اور دل تاریک ہو کر خدا سے دور ہو جاتا ہے اور ہر قسم کی بیقراری کا شکار ہو جاتا ہے۔فرمایا کہ لیکن جب کہ دنیا کی چیزوں سے جو تعلق ہو وہ خدا میں ہو کر ایک تعلق ہو۔دنیا کی چیزوں کا جو تعلق ہے وہ خدا میں ہو کر ہو۔اور ان کی محبت خدا کی محبت میں ہو کر ہو۔دنیا کی چیزوں کی محبت بھی اس لئے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے ایک حد تک ان سے محبت کرنا جائز قرار دیا ہے۔اور وہ خدا کی محبت سے ہو کر ہو گی اور اس وقت خدا نہ بھولے تو پھر کیا ہو گا؟ فرمایا کہ اس وقت باہمی رگڑ سے غیر اللہ کی محبت جل جاتی ہے۔جب وہ رگڑ پیدا ہو گی توجو اللہ کے غیر ہیں ان کی محبت ختم ہو جائے گی اور اس کی جگہ ایک روشنی اور نور بھر جاتا ہے۔پھر خدا کی رضا اس کی رضا اور اس کی رضا خدا کی رضا کا منشاء ہو جاتا ہے۔پھر بندہ اس بات پر راضی ہو جاتا ہے اور وہی چاہتا ہے جو خدا تعالیٰ