خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 437
خطبات مسرور جلد 16 437 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 14 ستمبر 2018 انسان کو مرتے وقت دلی سکون مل سکتا ہے اور نہ ہی مرتے وقت کی بے چینی دور ہو سکتی ہے۔یہ ہے وہ مقصد جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعہ سے یہ سلسلہ قائم فرمایا اور ہمیں اس میں شامل ہونے کی توفیق دی اور جس کے لئے آپ نے بیعت لی اور بیعت کرنے والوں پر اس مقصد کو واضح فرمایا۔اگر اس مقصد کے حصول کے لئے ہم کوشش نہیں کر رہے تو ہمارے بیعت کے دعوے صرف دعوے ہیں اور حقیقت میں نہ ہی ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو پہچانا ہے، نہ ہی آپ کو مانا ہے ، نہ ہی ہم بیعت کا حق ادا کرنے والے ہیں۔شروع میں جب جلسوں کا آغاز ہوا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جب یہ پتہ چلا کہ جلسے کے مقصد کو لوگ پورا نہیں کر رہے تو آپ نے بڑی سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ اس سال میں جلسہ کا انعقاد نہیں کروں گا اور اُس سال جلسہ منعقد نہیں ہوا۔اور اس کے ملتوی کرنے کا جو اعلان آپ نے فرمایا وہ ایسا ہے کہ ہر مخلص کو آج بھی بے چین کرنے والا ہے اور بے چین کرنے والا ہونا چاہئے۔آپ نے فرمایا کہ " اس جلسہ سے مدعا اور اصل مطلب یہ تھا کہ ہماری جماعت کے لوگ کسی طرح بار بار کی ملاقاتوں سے ایک ایسی تبدیلی اپنے اندر حاصل کر لیں کہ ان کے دل آخرت کی طرف بکلی جھک جائیں اور ان کے اندر خدا تعالیٰ کا خوف پیدا ہو اور وہ زُہد اور تقویٰ اور خدا ترسی اور پرہیز گاری اور نرم دلی اور باہم محبت اور مواخات میں دوسروں کے لئے ایک نمونہ بن جائیں اور انکسار اور تواضع اور راست بازی ان میں پیدا ہو اور دینی مہمات کے لئے سرگرمی اختیار کریں۔" ( شہادت القرآن، روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 394) پھر فرمایا یہ جلسہ ایسا تو نہیں ہے کہ دنیا کے میلوں کی طرح خواہ مخواہ التزام اس کا لازم ہے بلکہ اس کا انعقاد صحت نیت اور حسنِ ثمرات پر موقوف ہے ، ورنہ بغیر اس کے پیچ۔" (شہادت القرآن، روحانی خزائن جلد 6 صفحه 395) اگر نیت صحیح نہیں اور اچھے پھل نہیں حاصل ہو رہے۔وہ مقصد حاصل نہیں ہو رہا جس کے لئے جلسہ منعقد کیا گیا ہے تو پھر بالکل بیچ ہے ، اس کا کوئی فائدہ نہیں۔یہ جو آپ نے فرمایا کہ بار بار کی ملاقاتوں سے ایسی تبدیلی پیدا کریں۔یہ کس کی ملاقاتیں ہیں۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ ملاقاتیں ہیں۔پس اگر ایسے لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وقت میں اپنی کچھ کمزوریوں کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ناراضگی کا مورد بنے تو آجکل تو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ تعداد کے لحاظ سے ہم کتنے ہیں اور ہماری کیا حالت ہے جو اس زمرہ میں آتے ہیں۔ان لوگوں میں آتے ہیں جن پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ناراضگی کا اظہار فرمایا۔پس اس لحاظ سے ہر ایک کو اپنے جائزے لینے چاہئیں کہ اگر وہ معیار نہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام چاہتے ہیں تو پھر ہم جلسہ میں شامل ہونے کے حق دار بھی نہیں ہیں۔یا یہ دیکھیں کہ ہم حق دار ہیں بھی کہ نہیں ؟ یا صرف اس لئے کہ پیدائشی احمدی ہیں یا پرانے احمدی ہو گئے، کئی سالوں سے بیعت کر کے یا بزرگ آباؤ اجداد کی اولاد ہیں اس لئے شامل ہو رہے ہیں تو پھر وہ مقصد پورا نہیں کر رہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہم سے چاہتے ہیں۔یا اس نیت سے نہیں آئے کہ ہم نے یہ مقصد حاصل کرنے کی اپنی تمام تر صلاحیتوں سے کوشش کرنی ہے یا کرتے رہے ہیں یا کر رہے ہیں تو پھر اگر یہ نہیں تو پھر جلسوں پر آنا ایک میلے پر آنا ہی ہے۔پس اس بات سے ہر مخلص احمدی کے دل میں ایک فکر پیدا