خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 434
خطبات مسرور جلد 16 434 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 ستمبر 2018 بزدلوں کا کام ہے۔فرمایا کہ مومن کے تعلقات دنیا کے ساتھ جس قدر وسیع ہوں وہ اس کے مراتب عالیہ کے موجب ہوتے ہیں کیونکہ اس کا نصب العین دین ہوتا ہے اور دنیا اور اس کا مال و جاہ دین کا خادم ہو تا ہے۔یعنی دنیا بھی اور دنیا میں جو عزت و مرتبہ اور دولت ملی ہے وہ سب ایک مومن کو دنیا داری کے اظہار کا ذریعہ نہیں بناتی بلکہ یہ سب چیزیں دین کے خادم کے طور پر کام کرتی ہیں۔اس کا مقام و مر تبہ دین کے فائدے کے لئے ہو تا ہے اور اس کی دولت بھی دین کے فائدے کے لئے ہوتی ہے۔گویا کہ آپ نے جو بیان فرمایا اس کا مفہوم یہی ہے کہ دنیا کی دولت ایک ایسی سواری ہے جس پر بیٹھ کر انسان کو دین کی اعلیٰ منزلوں تک پہنچنا ہے۔جب وہ زاد راہ جو ہے انسان اپنے سفر کی آسانی کے لئے ساتھ لیتا ہے۔اچھی سواری اور سفر کی سہولت کا سامان انسان اس لئے کرتا ہے تا کہ آسانی سے منزل مقصود تک پہنچ سکے۔پس اس طرح دنیا کو حاصل کر کے استعمال کرو اور اسے دین کا خادم بناؤ۔نہ یہ کہ خود دنیا کے خادم بن کر دین کو بھی چھوڑ دو۔پھر آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو یہ دعا تعلیم فرمائی ہے کہ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً- (البقرة:202) اس میں بھی دنیا کو مقدم کیا ہے۔فرمایا اس میں دنیا کو مقدم کیا ہے لیکن کس دنیا کو؟ فرمایا حَسَنَةُ الدُّنْيَا کو مقدم کیا ہے جو آخرت میں حسنات کا موجب ہو جائے۔فرمایا کہ اس دعا کی تعلیم سے صاف سمجھ میں آجاتا ہے کہ مومن کو دنیا کے حصول میں حَسَنَاتُ الْآخِرَة کا خیال رکھنا چاہئے اور ساتھ ہی حَسَنَةُ الدُّنْیا کے لفظ میں ان تمام بہترین ذرائع حصول دنیا کا ذکر آ گیا جو ایک مومن مسلمان کو حصول دنیا کے لئے اختیار کرنی چاہئے۔دنیا کو ہر ایسے طریق سے حاصل کرو جس کے اختیار کرنے سے بھلائی اور خوبی ہی ہو۔نہ وہ طریق جو کسی دوسرے بنی نوع انسان کی تکلیف کا موجب ہو۔نہ ہم جنسوں میں کسی عار اور شرم کا باعث۔ایسی دنیا بیشک حَسَنَةُ الْآخِرَة کا موجب ہو گی۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 2 صفحہ 91-92) پس ہم میں سے ہر ایک کی یہ کوشش ہونی چاہئے کہ ایسی دنیا کمائیں جو آخرت کی حسنات کی بھی موجب ہو، نہ یہ کہ یہاں کی رنگینیوں میں گم ہو کر اپنے مقصد کو بھول جائیں اور آخرت میں حسنات لینے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب بنے۔اور پھر دنیا کی رنگینیاں اور لذات ایسی ہیں کہ جو انسان میں مزید بے چینیاں پیدا کر دیتی ہیں۔اپنی طرف سے انسان سمجھتا ہے کہ دنیا میں مجھے سکون مل سکتا ہے لیکن حقیقت میں سکون نہیں ہے بلکہ بے چینیاں پیدا ہوتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ مت خیال کرو کہ کوئی ظاہری دولت یا حکومت اور مال و عزت، اولاد کی کثرت کسی شخص کے لئے راحت یا اطمینان اور سکینت کا موجب ہو جاتی ہے اور وہ دم نقد بہشتی ہوتا ہے۔یعنی وہ گویا جنت میں ہے یا اسے یہ جنت مل گئی جو تم سمجھتے ہو۔فرمایا ہر گز نہیں۔حقیقت میں وہ اطمینان اور تسلی اور تسکین جو بہشت کے انعامات میں سے ہے جس سے بہشت مل سکتی ہے وہ ان باتوں سے نہیں ملتی۔وہ خدا میں زندہ رہنے اور مرنے سے مل سکتی ہے جس کے لئے انبیاء علیہم السلام خصوصاً ابراہیم اور یعقوب علیہ السلام کی یہی نصیحت تھی کہ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُون۔(البقرة: 133)۔کہ پس ہر گز نہ مرنا مگر اس حالت میں کہ تم اللہ کے پورے فرمانبردار ہو۔مطلب یہ کہ تمہیں ہر وقت اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی