خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 433
خطبات مسرور جلد 16 433 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 14 ستمبر 2018 کے نام پر آئی ہے۔اس وجہ سے آئی کہ آپ کو اپنے ملک میں اپنے دین پر عمل کرنے کی آزادی نہیں تھی۔پس اس بات کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے۔ورنہ یہ بات یاد رکھیں کہ یہاں آئے اور دین کے نام پر آئے ، اللہ تعالیٰ کے نام پر آئے اور پھر اللہ کے حکموں پر عمل نہ کیا تو یہ باتیں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا مورد بنا سکتی ہیں۔لیکن انسان کمزور ہے اس لئے اس کمزوری کی وجہ سے دنیا کی طرف جھکاؤ بھی ہو جاتا ہے۔ایک حد تک دنیا کی طرف توجہ دینا اور دنیا کمانا گناہ نہیں لیکن دنیا پر دنیا داروں کی طرح گرنا اس بات سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔اور اس بارے میں ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی بڑا کھول کر واضح فرمایا۔ایک موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے دنیا کے شغلوں کو جائز رکھا ہے۔جو دنیا کے کام ہیں، شغل ہیں ، مصروفیات ہیں جائز ہیں۔ان میں کوئی گناہ نہیں۔کیونکہ اگر یہ نہیں ہوں گے تو اس راہ سے بھی ابتلا آ جاتا ہے اور اسی ابتلا کی وجہ سے انسان چور ، قمار باز، ٹھگ، ڈکیت بن جاتا ہے اور کیا کیا بری عادتیں اختیار کر لیتا ہے۔فرمایا مگر ہر ایک چیز کی ایک حد ہوتی ہے۔دنیاوی شغلوں کو اس حد تک اختیار کرو کہ وہ دین کی راہ میں تمہارے لئے مدد کا سامان پیدا کر سکیں اور مقصود بالذات اس میں دین ہی ہو۔فرمایا پس ہم دنیاوی شغلوں سے بھی منع نہیں کرتے۔جو دنیا کی مصروفیات ہیں یہ منع نہیں۔لیکن اس شرط کے ساتھ کہ اصل مقصد دین ہو نا چاہئے۔پس ایک دیندار کے لئے، ایک اس شخص کے لئے جو اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے دین پر چلنے والا کہتا ہے یہ بنیادی اصول ہے کہ دنیا کماؤ۔ضروریات زندگی پورا کرنے کے سامان کرو۔اپنے بیوی بچوں کے اخراجات اپنی گھریلو ذمہ داریاں ادا کرو یہ تمہارے ذمہ ہے۔ان کے لئے دنیاوی کاروبار کرنا، کام کرنا، نوکری کرنا بھی ضروری ہے۔لیکن یہ کام یہ کاروبار، یہ نوکری تمہیں پیسہ کمانے میں اس حد تک منہمک نہ کر دے، اس میں اس حد تک نہ ڈوب جاؤ کہ پھر دین کی فکر ہی نہ رہے اور تمام فکریں صرف دنیا کے گرد گھومتی رہیں۔دنیا بھی کمانی ہے تو اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق بیوی بچوں کے حق ادا کرنے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے حق ادا کرنے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے دین کی خدمت کرنی ہے۔یہ مقصد ہو گا تو دنیا بھی ملے گی اور دین بھی ملے گا۔آپ نے پھر یہ بھی فرمایا کہ یہ نہ ہو کہ دن رات دنیا کے دھندوں اور بکھیڑوں میں منہمک ہو کر خدا تعالیٰ کا خانہ بھی دنیا سے ہی بھر دو۔یہ نہ ہو کہ جو اللہ کو حق دینا ہے وہ بھی دنیا کی مصروفیات میں گزار دو۔فرمایا کہ اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو وہ محرومی کے اسباب بہم پہنچاتا ہے اور اس کی زبان پر نرا دعوی ہی رہ جاتا ہے۔(ماخوذاز ملفوظات جلد 2 صفحہ 73) پس اگر دنیا میں ڈوب گئے تو دین سے محروم ہو گئے۔اور جب دین سے محروم ہو گئے تو پھر دین کا دعویٰ اور بیعت کا دعویٰ اور اللہ تعالیٰ پر ایمان کا دعویٰ صرف دعوی ہے اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں اور اس کی کوئی حقیقت نہیں۔کہنے کو تو ہم احمدی ہیں لیکن اگر ہم دنیا کی طرف بڑھ گئے، زیادہ اس میں ڈوب گئے تو عمل ہمارے وہ یہیں جو دوسروں کے ہیں۔پھر اس بات کی ایک اور جگہ مزید وضاحت فرماتے ہوئے کہ دنیا کو حاصل کرنے کا مقصد دین ہونا چاہئے آپ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اسلام نے رہبانیت کو منع فرمایا ہے۔یہ بزدلوں کا کام ہے۔دنیا سے کٹ جانا یہ تو