خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 432 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 432

خطبات مسرور جلد 16 432 37 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 ستمبر 2018 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز بر موقع جلسہ سالانہ بیلجیم فرموده مورخہ 14/ ستمبر 2018ء بمطابق 14 / تبوک 1397 ہجری شمسی بمقام Dilbeek برسلز، بیلجیم تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے فضل سے آج سے جماعت احمدیہ بیلجیم کا جلسہ سالانہ شروع ہو رہا ہے۔بڑے عرصے کے بعد میں آپ کے جلسہ میں شامل ہو رہا ہوں۔اس عرصہ میں جہاں جماعت میں اضافہ بھی ہوا ہے دنیا کی دوسری جماعتوں کی طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہاں بھی جماعت بڑھی ہے۔پاکستان سے یہاں ہجرت کر کے آنے والے بھی بہت سے نئے شامل ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ اور بہت سی باتوں میں یہاں ترقی ہوئی ہے۔مثلاً مشن ہاؤسز میں اضافہ ہوا۔مساجد اور نماز سینٹر ز میں بھی اضافہ ہوا۔برسلز کی مسجد جو زیر تعمیر ہے تقریبا تکمیل کے مراحل میں ہے۔وہ بھی اچھی مسجد بن رہی ہے۔پرسوں آلکن (Alken) میں ایک مسجد کا میں نے افتتاح کیا۔بڑی وسیع جگہ اور عمارت جماعت کو اللہ تعالیٰ نے دی ہے۔تو ظاہری طور پر ہم دیکھتے ہیں کہ جماعت پر یہاں بڑے فضل ہوئے ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ کے یہ فضل یہ احساس بھی افراد جماعت میں پیدا کرنے والے ہونے چاہئیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے احکامات کو سمجھنے اور ماننے میں اور عمل کرنے میں بھی نہ صرف ظاہری طور پر بلکہ حقیقی طور پر پہلے کی نسبت بہتر ہوں۔اور یہی نہیں کہ بہتر ہوں اور ایک جگہ کھڑے ہو جائیں بلکہ ہمارا ہر دن اور ہر قدم گزشتہ دن سے اور پچھلے قدم سے نیکی اور تقویٰ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کے مقصد کو پورا کرنے میں ترقی کرتا ہوا اور آگے بڑھتا ہوا نظر آئے۔اپنی برائیوں کو ہم پیچھے چھوڑ چکے ہوں اور نیکیوں میں نئی منزلوں کو طے کر رہے ہوں۔اگر یہ بات افراد جماعت میں نظر آتی ہو تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے مقصد کو حاصل کر لیا ہے یا حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کا حق ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔پس اس بات کو سمجھتے ہوئے ہر وقت اپنے جائزے لیتے رہنے کی ضرورت ہے اور خاص طور پر ان ترقی یافتہ اور آزادی کے نام پر دینی پابندیوں اور اللہ تعالیٰ کے احکام سے بھی آزاد ملکوں میں جہاں کوئی پرواہ نہیں ہے کہ دینی احکامات کی پابندی کرنی ہے یا اللہ تعالیٰ کے حکموں کی پابندی کرنی ہے۔یہ ملک ان سب سے آزاد ہیں۔ان ملکوں میں تو خاص طور پر توجہ اور کوشش کی ضرورت ہے۔ورنہ دین کے نام پر ان ملکوں میں آکر پھر اللہ تعالیٰ کی باتوں کو کوئی اہمیت نہ دینا اور دنیا میں پڑ جانا اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا مورد بنا دیتا ہے۔یہاں آنے والوں کی اکثریت دین