خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 428
خطبات مسرور جلد 16 428 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07 ستمبر 2018 عاجزی اور انکساری پیدا ہو۔دل میں دوسروں کے لئے محبت پیدا ہو، اس کے جذبات ہوں اور اگر یہ ہو گا تو آپ کی ڈیوٹیاں بھی اللہ تعالیٰ کی خاطر ہوں گی۔اسی طرح آنے والے مہمانوں کو بھی یاد رکھنا چاہئے۔شروع میں بھی میں ان کو کہہ چکا ہوں کہ آپ کا یہاں آنے کا مقصد یہ ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنا ہے اور اس کے اعلیٰ معیار حاصل کرنے ہیں اور پھر اس کے بندوں کے حقوق ادا کرنے کی طرف توجہ کرنی ہے۔آنے والے مہمانوں کو ہمیشہ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اس جلسہ میں اس لئے شامل ہو رہے ہیں جیسا کہ میں ذکر کر آیا ہوں کہ دلوں میں تقویٰ پیدا کرنا ہے۔اپنی علمی ، عملی اور روحانی حالت کو بہتر کرنا ہے۔پس اگر یہ مقصد سامنے ہو گا تو کسی قسم کی رنجش اور شکایت دوسروں سے اور خاص طور پر کام کرنے والوں سے ، کارکنان سے پیدا ہی نہیں ہو گی۔یہ ڈیوٹی دینے والے بہت سے ایسے ہیں جو نوجوان ہیں، سکولوں میں پڑھ رہے ہیں، کالج یونیورسٹیوں میں پڑھ رہے ہیں۔بعض لوگ ایسے ہیں جو اچھے شعبوں میں کام کرنے والے ہیں۔یہ ڈیوٹی صرف اس لئے دے رہے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمان آرہے ہیں۔پس آپ جو شامل ہونے والے ہیں ان کو بھی اپنے آپ کو اس معیار پر لانے کی ضرورت ہے جو آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مہمان ہونے کا اہل بنانے والے ہوں۔صرف جلسہ میں شامل ہو کر آپ مہمان نہیں بن جاتے۔اگر آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم پر عمل نہیں کر رہے، آپ کی باتوں پر عمل نہیں کر رہے، آپ کے جلسہ کے مقصد کو پورا نہیں کر رہے تو آپ ہزار بار کہتے رہیں کہ ہم جلسہ پر آئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مہمان ہیں ، آپ مہمان نہیں ہیں۔کیونکہ آپ کے عمل ثابت کر رہے ہیں کہ آپ کی وہ حرکتیں نہیں ہیں۔پس شامل ہونے والے بھی اپنے آپ کو ان باتوں سے بری الذمہ نہ سمجھیں۔آپ کو بھی اپنے رویے ٹھیک کرنے ہوں گے اور یہ کام کرنے والے جو ہیں اُن سے تعاون کریں۔بیشکیہ لوگ آپ کی خدمت پر مامور ہیں لیکن آپ کی طرف سے بھی اچھے اخلاق کا مظاہرہ ہونا چاہئے۔یہ نوجوان جو ایک جذبہ کے تحت خدمت کے لئے آتے ہیں ان سے مہمانوں کو بھی حسن سلوک کرنا چاہئے۔اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرنا چاہئے تا کہ ان میں خدمت کا شوق اور جذبہ جو ہے وہ مزید ابھرے اور قائم رہے۔یہ نہیں کہ مہمانوں کے رویوں کی وجہ سے آئندہ سال وہ ڈیوٹیوں سے بھاگنا شروع ہو جائیں۔پھر جرمنی کے رہنے والے مہمانوں کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ وہ ایک لحاظ سے مہمان ہیں اور ایک لحاظ سے میزبان بھی ہیں۔جو جر منی سے باہر سے آنے والے ان کی خاطر انہیں قربانی دینی چاہئے کیونکہ جو جرمنی میں نہیں رہتے اور باہر سے آکر جلسہ میں شامل ہو رہے ہیں وہ اب مہمان بن گئے اور یہاں کے رہنے والے میزبان بن گئے۔پس ان کی خاطر آپ لوگوں کو قربانی دینی چاہئے۔بیٹھنے کے لئے جگہ دینی ہے ، کھانا کھانے کے وقت اگر جگہ کی تنگی ہے وہاں جگہ دینی ہے یا اور کسی قسم کی مدد کی ضرورت ہے تو آپ سب کا فرض ہے کہ ان کی مدد کریں۔زبان