خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 427
خطبات مسرور جلد 16 427 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07 ستمبر 2018 پس مہمانوں کی مہمان نوازی میں کسی قسم کی تخصیص نہیں ہونی چاہئے۔یہ نہ ہو کہ جاننے والوں کے ساتھ بہتر سلوک ہو رہا ہو اور جن کو نہیں جانتے ان کا صحیح خیال نہ رکھا جارہا ہو یا ان سے رُوکھے طریقے سے مل رہے ہوں۔اس دفعہ یہاں افریقہ سے اور بہت سے دوسرے ممالک سے بھی کافی تعداد میں مہمان آئے ہیں۔پہلے تو ایسٹ یورپ کے اور یورپ کے علاقے کے آتے تھے، ہر آنے والے کو خوشگوار اور اچھی یادیں جلسہ سالانہ جرمنی اور یہاں کے مہمان نوازی کرنے والوں کی لے کر جانا چاہئے اور یہ آپ لوگوں کا جو کام کرنے والے ہیں ان کے رویوں پر منحصر ہے۔پس اس لحاظ سے بھی اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور پھر خاص طور پر جو غیر از جماعت مہمان آتے ہیں ان کے لئے ہر کارکن بھی اور ہر احمدی بھی جو جلسہ میں شامل ہو رہا ہے اسلام کی خوبصورت تعلیم کا عملی نمونہ دکھا کر تبلیغ کا ذریعہ بنتا ہے ، خوبصورت تعلیم دکھانے کا ذریعہ بنتا ہے۔پس اس لحاظ سے آپ سب شامل ہونے والے بھی اور ڈیوٹی دینے والے بھی ایک خاموش تبلیغ کر رہے ہوتے ہیں۔ہر شعبہ کے کارکن کو یاد رکھنا چاہئے کہ اس کا شعبہ اہم ہے۔جیسا میں نے کہا کہ ٹریفک کنٹرول کا کام ہے یا پار کنگ کا شعبہ ہے۔رجسٹریشن اور سکیننگ کا شعبہ ہے یا کھانا پکانے کا یا کھانا کھلانے کا شعبہ ہے۔صفائی اور نظافت کا شعبہ ہے یا ڈسپلن قائم کرنے کا شعبہ ہے۔ہر شعبہ صرف مہمانوں کی خدمت ہی نہیں کر رہا ہو تا بلکہ خاموش تبلیغ بھی کر رہا ہوتا ہے۔پس اپنی ڈیوٹیوں کی اس اہمیت کو بھی سمجھیں۔ڈسپلن میں بھی ضروری نہیں ہو تا کہ چہرے پر سختی طاری کریں تو تب ہی اثر ہو گا۔عورتوں میں خاص طور پر یو کے کے جلسہ میں بچیاں ڈسپلن قائم کرتی رہی ہیں اور مسکراتے چہروں کے ساتھ قائم کرتی ہیں۔کسی نے مجھے بتایا کہ فلاں بچی جو لجنہ میں شامل ہو گئی ہے وہ بھی ہمیں شرمندہ کر دیتی تھی کہ جب بھی بات کرنے لگو یا عورتیں بیٹھ کے آپس میں ایک دوسرے سے بات کرنے لگیں تو مسکراتے چہرے کے ساتھ خاموش رہنے کا کارڈ لے کر آگے کر دیتی تھی۔منہ سے کچھ نہیں بولنا۔اگر تو سلجھے ہوئے لوگ ہیں تو یقیناً وہ ڈیوٹی والوں کے توجہ دلانے سے خاموش ہو جائیں گے۔اور اگر جاہل اور بد خلق ہیں اور خاموش نہیں ہوں گے یا پھر بعض ایسے بد خُلق بھی ہوتے ہیں جو یہ کہہ کر ڈیوٹی والے کا منہ بند کرا دیتے ہیں کہ ہمیں پتہ ہے کہ اب خاموش ہونا ہے۔پھر ایسے لوگوں کو خاص طور پر عورتوں کو، ان نوجوان لڑکیوں کو ، کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔اپنی انچارج کو کہہ دیں وہ خود ان کو سمجھا دیں گی۔لیکن لڑکیوں کا کام نہیں ہے کہ بڑی عمر کی عورتوں سے الجھیں خواہ وہ کسی جگہ بھی ہوں۔اسی طرح پر خاص طور پر کھانے کی جگہ پر خیال رکھیں کہ اگر کوئی بے وقت بھی آجاتا ہے اور اس کی مجبوری ہے بیمار ہے یا بچہ رورہا ہے، اس کو ضرورت ہے تو جس حد تک ان کی مدد ہو سکتی ہے وہ کرنی ہے۔اگر نہیں کر سکتی تو خاموشی سے خوش اخلاقی سے اور خوشی سے جواب دیں۔اگر کوئی سخت الفاظ استعمال بھی کر لیتا ہے تو خاموش ہو جائیں۔اسی طرح مردوں اور عورتوں کے غسل خانوں میں جو صفائی کا انتظام ہے وہاں بھی خیال رکھنا چاہیئے۔ان باتوں کی طرف میں نے کل کارکنان کو ہدایات دیتے ہوئے بھی توجہ دلائی تھی۔ڈیوٹی احسن رنگ میں اور اس معیار کے مطابق دینے کے لئے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام چاہتے ہیں یہ ضروری ہے کہ