خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 426
خطبات مسرور جلد 16 426 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07 ستمبر 2018 صبر کا مظاہرہ ہو گا دوسرے کی غلط بات کا بھی نرمی سے جواب دینے کا حوصلہ پیدا ہو گا۔انسان کے بہت سے دوسرے گناہ ہیں۔یہی اعلیٰ اخلاق پھر ان گناہوں کی معافی کا ذریعہ بھی بن جاتے ہیں۔پس پہلی بات ہر کارکن کو اپنے پہلے باندھ کر اس پر عمل کرنے والی جو ہے وہ یہی ہے کہ اس کے اخلاق اعلیٰ ہوں۔پس دیکھیں کہ کتنا سستا سودا ہے۔اللہ تعالیٰ کس طرح ان لوگوں کو خاص طور پر نواز رہا ہے جو اس کی خاطر صرف اپنی زبان بند رکھتے ہیں اور چہرے پر مسکراہٹ رکھتے ہیں۔اگر کوئی کہے کہ ڈیوٹی کے بوجھ کی وجہ سے یا فلاں شخص کے انتہائی غلط رویے کی وجہ سے، کسی شخص کے انتہائی غلط رویے کی وجہ سے مجھے بھی غصہ آگیا تو ہمیں ہمیشہ اپنے آقا و مولا اور مطاع حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھنا چاہئے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ تمہارے لئے اُسوہ حسنہ ہیں۔کون سی تکلیف تھی جو آپ کو نہیں پہنچی۔کون سی پریشانی تھی جو آپ کو نہیں ہوئی یا جن کی وجوہات آپ کے لئے پیدا نہیں کی گئیں۔انسان کے تصور میں جتنے بھی کوئی سخت حالات اور پریشانیاں اور تکلیفیں ہو سکتی ہیں ان سب سے زیادہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان پریشانیوں اور تکلیفوں سے گزرے ہیں اور برداشت کی ہیں۔لیکن اس کے باوجود صحابہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کسی کو تبسم فرمانے والا نہیں دیکھا۔(سنن الترمذی ابواب المناقب باب قول ابن جزء ما رايت احداً اكثر تبسماً۔۔۔الخ حديث 3641) ہم نے آپ سے زیادہ کسی کو مسکرانے والا نہیں دیکھا۔مسکراہٹ ہر وقت آپ کے چہرہ مبارک پر ہوتی تھی۔یہ ہے نمونہ ہمارے آقا و مطاع حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا۔پھر آپ نے یہ بھی فرمایا اور یہ بات فرما کر ہمیں ہوشیار کیا کہ جو شخص نرمی سے محروم کیا گیا۔وہ خیر سے بھی محروم کیا گیا۔اگر تمہارے اندر نرمی نہیں تو پھر تم خیر سے بھی محروم ہو گئے۔یہ کارکنوں کے لئے بھی ہے۔لوگوں کے لئے بھی ہے۔بہت سارے لوگ آپس میں ایک دوسرے سے الجھ پڑتے ہیں پھر ہر خیر سے بھی محروم ہو جاتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ آپ کو سال کے بعد جو موقع عطا فرما رہا ہے اس میں ہر ایک کو اور خاص طور پر کارکنان کو حسن خلق کے معیار ، اپنی نرمی کے معیار، اپنے چہروں پر مسکراہٹوں کے اظہار پہلے سے بڑھ کر کرنے چاہئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو مہمانوں سے حسن خلق کے اظہار کے لئے ہمیں نصیحت (سنن الترمذی ابواب البر والصلة باب ما جاء فى الرفق حديث 2013 فرمائی ہے اسے بھی ہر کارکن کو اپنے پیش نظر رکھنا چاہئے۔آپ نے فرمایا کہ: مہمان کا دل مثل آئینہ کے نازک ہوتا ہے اور ذراسی ٹھیس لگنے سے ٹوٹ جاتا ہے۔" ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 406) پھر مہمانوں کی خدمت کرنے والوں کو عمومی ہدایت دیتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ " دیکھو بہت سے مہمان آئے ہوئے ہیں ان میں سے بعض کو تم شناخت کرتے ہو بعض کو نہیں۔اس لئے مناسب یہ ہے کہ سب کو واجب الاکرام جان کر تواضع کرو۔" (ملفوظات جلد 6 صفحہ 226)