خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 425
خطبات مسرور جلد 16 425 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07 ستمبر 2018 میں مہمان کا خیال رکھنا ہے۔عہدیداروں کو بھی، کارکنان کو بھی نرم زبان استعمال کرنی ہے۔پھر کارکنان کے آپس کے تعلق ہیں اس میں بھی محبت اور اخلاص اور بھائی چارہ ہونا چاہئے مہمانوں کے لئے بھی اور آپس کے تعلقات میں بھی۔عہدیدار اور ماتحت کام کرتے ہوئے ایک دوسرے کی بات پر غصہ میں آگئے تو مہمانوں پر اور خاص طور پر غیر مہمانوں پر جو یہ سنتے ہیں کہ احمدیوں کے جلسہ میں سب آپس میں محبت اور پیار سے رہتے ہیں اور کسی قسم کے غصہ کا اظہار نہیں کرتے یا نہیں ہوتا، جب اس قسم کی باتوں کو دیکھیں گے فسادوں کو دیکھیں گے یا کہیں بھی دو اشخاص کو اونچا بولتا ہوا دیکھیں گے تو ان پر غلط اثر ہو گا۔کارکنوں کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ جب اپنے آپ کو چند دن کی خدمت کے لئے پیش کر دیا اور خدمت بھی وہ جو بڑا اعلیٰ مقام رکھتی ہے، جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مہمانوں کی خدمت ہے اس میں اپنے رویے پھر ایسے رکھیں کہ نہ کسی مہمان کو تکلیف پہنچے ، نہ ایک دوسرے کو جو کارکن ہیں ایک دوسرے سے تکلیف پہنچے۔جلسہ کی تربیت کا یہ حصہ ہے کہ افسروں نے بھی اور ماتحتوں نے بھی اپنے جذبات کو قابو میں رکھنا ہے۔پارکنگ ہے ، ٹریفک کنٹرول سے لے کر کھانا پکانے اور صفائی کرنے والے کارکنان تک ان سب کو اپنے اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ ان دنوں میں کرنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ قُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا۔(البقرة: 84 ) یعنی لوگوں سے نرمی سے بات کیا کرو۔یہ بات اللہ تعالیٰ نے اخلاق کے معیار قائم کرنے کے لئے بتائی ہے۔یہ ایک عمومی ہدایت ہے۔ایک مومن سے ہر وقت ہی اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ ہونا چاہئے۔لیکن ان خاص حالات میں جبکہ آپ نے اپنے آپ کو جلسہ کے مہمانوں کی خدمت کے لئے پیش کیا ہے ، وہ مہمان جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مہمان ہیں ، وہ مہمان جو اپنی علمی اور عملی اور روحانی حالتوں کے بہتر کرنے کے لئے یہاں آئے ہیں ان کی عملی تربیت تو کارکنان اپنے رویے سے بھی کر سکتے ہیں اور کریں گے۔پس اس لحاظ سے آپ لوگ جو کام کرنے والے ہیں دوہرے ثواب کے مستحق ہو رہے ہیں۔ایک تو جلسہ کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش کر کے اور دوسرے اپنے اچھے اخلاق سے دوسروں کی تربیت کر کے۔دوسروں کو بھی احساس دلا کر کہ جلسہ پر ہر آنے والا اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرنے والا ہونا چاہئے۔اگر کسی نے غلط رنگ میں یا سختی سے بات کر دی اور غلط بات کرنے والا جب یہ دیکھے گا کہ کارکن اس کا جواب نرمی سے اور عمدہ اخلاق سے دے رہے ہیں تو یہ عملی نمونہ خود بخود دوسرے کو اس کی غلطی کا احساس دلا کر عملی تربیت کرنے والا ہو گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میزان میں حسن خلق سے زیادہ وزن رکھنے والی کوئی چیز نہیں ہے۔(سنن ابو داؤد کتاب الادب باب فى حسن الخلق حديث 4799) وزن کرو، تکڑی میں تو لو تو اعلیٰ اخلاق جو ہیں ان کا وزن سب سے زیادہ ہو گا کیونکہ اعلیٰ اخلاق ہی ہیں جو دنیا کے فسادوں کو ختم کرنے والے ہیں۔اعلیٰ اخلاق ہی ہیں جو پھر اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرنے کی طرف بھی لے جاتے ہیں۔بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ بعض حالات میں حقوق العباد حقوق اللہ سے بڑھ جاتے ہیں۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 10 صفحہ 290) گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اعلیٰ اخلاق جو ہیں ان کی وجہ سے جذبات پر کنٹرول ہو گا