خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 424
خطبات مسرور جلد 16 424 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07 ستمبر 2018 نہیں دنیا میں گم ہو گئی دنیا کی چیزوں نے غلبہ پالیا اللہ تعالیٰ کی طرف رجحان کم ہو گیا۔نعرہ یا عہد تو دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کا ہے لیکن بہت سارے ایسے مواقع آ جاتے ہیں کہ دنیا مقدم ہو جاتی ہے اور دین پیچھے چلا جاتا ہے فرمایا اور وہ حقیقی تقویٰ و طہارت جو اس زمانہ میں پائی نہیں جاتی۔اسے دوبارہ قائم کرے۔" (ملفوظات جلد 7 صفحہ 277-278) مقصد کیا ہے جماعت کا؟ کہ وہ تقویٰ اور طہارت جو اس دنیا میں پائی نہیں جاتی اسے دوبارہ قائم کرے۔پس جو اللہ تعالیٰ کی منشاء کے مطابق تقویٰ اور طہارت کو قائم کرنے کی کوشش کرے گا وہی کامیاب ہو گا۔وہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نظر میں حقیقی احمدی ہے اور وہی اس جلسہ کے مقصد کو پورا کرنے والا ہے۔جن دوسری دو باتوں کی طرف آج میں توجہ دلانا چاہتا ہوں ان پر عمل بھی اسی صورت میں ہو گا اور ہو سکتا ہے جب دلوں میں خوفِ خدا ہو اور تقویٰ ہو اور جلسے پہ آنے کے مقصد کو پورا کرنے کی خواہش ہو۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جلسہ کے مقصد کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ہر شامل ہونے والے میں کیا خصوصیات پیدا ہونی چاہئیں۔یعنی خدا تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنے کے بعد اس میں نرم دلی بھی پیدا ہو۔ایک دوسرے کے لئے دل نرم ہوں۔آپس کی محبت ہو۔بھائی چارہ ہو۔عاجزی ہو۔انکساری ہو اور سچائی کے اعلیٰ معیار قائم ہوں۔جلسہ میں شامل ہونے والوں کے دو طبقے ہیں یا دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔یہاں ہمارے جلسہ میں شامل ہونے والے نہیں کہنا چاہئے بلکہ جلسہ کا جو انتظام ہے ایک اس کے تحت ایک طبقہ ہے اور ایک وہ لوگ جو شامل ہونے کے لئے آرہے ہیں۔بہر حال یہ دو قسم کے لوگ ہیں اور ان دونوں قسموں کے لوگوں میں یہ خصوصیات پیدا ہونی ضروری ہیں۔نہ ہی وہ ان باتوں سے بری ہو سکتے ہیں جو ڈیوٹیاں دے رہے ہیں ، خدمت کر رہے ہیں کارکنان ہیں۔نہ وہ جو شامل ہونے والے ہیں۔دونوں کو ان معیاروں پر اپنے آپ کو پر کھنا ہو گا۔جو میزبان ہیں ان کو بھی اور جو مہمان ہیں ان کو بھی۔ان دونوں میں تقویٰ ہو گا تو یہ خصوصیات پید اہوں گی۔پس اس حوالے سے دونوں کو میں ان کی ذمہ داریوں اور فرائض کی طرف کچھ توجہ دلانا چاہتا ہوں۔اگر دونوں میں یہ خصوصیات پیدا ہو جائیں تو جلسہ کا ماحول بھی خوشگوار ہو گا اور جلسہ پر آنے کا مقصد بھی پورا ہو گا۔ڈیوٹی دینے والے یہ سمجھ سکتے ہیں کہ ہم نے ڈیوٹیاں دیں ہم رضا کار ہیں تو ہم نے کوئی بہت بڑا مقصد حاصل کر لیا یا اللہ کو راضی کر لیا۔ہاں راضی کر لیا اللہ تعالیٰ کو اگر ان باتوں پر عمل بھی ساتھ ساتھ کیا۔نہ ہی شامل ہونے والے یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم بڑی دُور کا سفر طے کر کے آئے ہیں تو ہم نے اللہ تعالیٰ کو راضی کر لیا۔ہاں راضی اس صورت میں کر لیا جب اللہ تعالیٰ کی معرفت پیدا ہو اور حقوق العباد کی طرف توجہ پیدا ہو۔سب سے پہلے میں کارکنان یا میزبانوں کو توجہ دلاؤں گا کہ اپنے اندر یہ خصوصیات خاص طور پر پیدا کرنے کی کوشش کریں۔اپنے جذبات کو کنٹرول رکھیں۔ہر حال میں مہمان کا خیال رکھنا ہے۔نرم زبان استعمال کرنی ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔عہدیداروں کو اور کارکنوں کا سب سے زیادہ پہلا فرض بنتا ہے کہ نرم زبان استعمال کریں۔عہدیداروں اور کارکنوں کا سب سے پہلا فرض بنتا ہے کہ عاجزی دکھائیں۔ہر حال