خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 423
خطبات مسرور جلد 16 423 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07 ستمبر 2018 جلسہ کا مقصد کیا ہے ؟ تو وہ مقصد یہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ تقویٰ پیدا ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جلسہ کے مدعا اور مقصد کو بیان فرماتے ہوئے شامل ہونے والوں کے لئے فرمایا کہ " اُن کے اندر خدا تعالیٰ کا خوف پیدا ہو اور وہ زہد اور تقویٰ اور خدا ترسی اور پرہیز گاری اور نرم دلی اور باہم محبت اور مواخات میں دوسروں کے لئے ایک نمونہ بن جائیں اور انکسار اور تواضع اور راستبازی اُن میں پیدا ہو۔" (شہادت القرآن ، روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 394) پھر آپ نے جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ " تقویٰ اختیار کرو۔تقویٰ ہر چیز کی جڑ ہے۔تقویٰ ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 321) کے معنی ہیں ہر ایک بار یک در بار یک رگِ گناہ سے بچنا۔" فرمایا " تقویٰ اس کو کہتے ہیں کہ جس امر میں بدی کا شبہ بھی ہو۔اس سے بھی کنارہ کرے۔" اس سے بھی بچو۔اب ہر ایک اپنا جائزہ لے تو خود ہی اپنا محاسبہ ہو جائے گا کہ کیا اس تعریف کے مطابق ہم بار یک در بار یک گناہ سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں؟ اور جس بات میں برائی کا شبہ بھی ہو اس سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں ؟ اس بات کا پھر ہر کوئی اگر محاسبہ کرے اور اس بات پر عمل کرنے والا ہو، محاسبہ کرنے کے بعد یہ دیکھے کہ واقعی ہم عمل کرنے والے ہیں اور اس کے مطابق عمل کرنے والے ہوں تو تب ہمیں سمجھنا چاہئے کہ ہم نے جلسہ پہ آنے کے مقصد کو پورا کر دیا یا پورا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ورنہ تقریریں سنا اور وقتی جوش دکھانا اور نعرے لگانا کوئی معنی نہیں رکھتا۔بعض نعرے لگا رہے ہوتے ہیں اور ان کے چہروں کے تاثرات اور جنسی سے یہ پتہ لگ رہا ہوتا ہے کہ کوئی دلی جوش نہیں ہے بلکہ صرف نعرہ برائے نعرہ لگ رہا ہے۔پہلے تو یہ تاثرات اور حرکات مچھپ جاتی تھیں لیکن اب کیمرے کی آنکھ بغیر پتہ لگے بغیر کسی کے علم میں لائے ان کی حالتوں کے بارے میں بتا دیتی ہے اور پھر یہ مستقل محفوظ ہو جاتی ہے۔پہلے تو یہ پروگرام صرف ایم ٹی اے پر ہی ہوتے تھے۔اب سوشل میڈیا پر بھی ہوتے ہیں وہاں بھی شکلیں نظر آجاتی ہیں۔نظر آرہا ہوتا ہے کہ کس کے چہرے پر کیسا تاثر ہے۔پھر ایک اور معیار انسان کی اندرونی حالت اور تقویٰ کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمایا ہے۔آپ نے فرمایا کہ " تقویٰ کا اثر اسی دُنیا میں متقی پر شروع ہو جاتا ہے۔یہ صرف اُدھار نہیں، نقد ہے۔" فرمایا کہ " بلکہ جس طرح زہر کا اثر اور تریاق کا اثر فور ابدن پر ہوتا ہے۔"زہر انسان پی لے یا کوئی دوائی کھالے اس کا اثر انسان پر ظاہر ہونا شروع ہو جاتا ہے بلکہ فوری بعض دفعہ ہو جاتا ہے۔فرمایا کہ " اسی طرح تقویٰ کا اثر بھی ہوتا ہے۔" تو یہ معیار آپ نے بیان فرمایا۔پس یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ انسان تقویٰ پر چلنے والا ہو اور اس کا اثر ظاہر نہ ہو رہا ہو۔تقویٰ پر چلنے والا کبھی برائی کے قریب جاہی نہیں سکتا۔اس کے خیالات بھی پاک ہوناشروع ہو جاتے ہیں۔پس اس لحاظ سے ہر کوئی اپنا جائزہ خود لے سکتا ہے۔( ملفوظات جلد 2 صفحہ 324) آپ نے ایک موقع پر فرمایا: "میں یہ سب باتیں بار بار اس لئے کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے جو اس جماعت کو بنانا چاہا ہے تو اس سے یہی غرض رکھی ہے کہ وہ حقیقی معرفت جو دنیا میں کم ہو چکی ہے۔اللہ تعالیٰ کی معرفت رہی