خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 422
خطبات مسرور جلد 16 422 36 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07 ستمبر 2018 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 07 ستمبر 2018ء بمطابق 07 تبوک 1397 ہجری شمسی بمقام DM Arena کالسروے (Karlsruhe)، جرمنی تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مندرجہ ذیل آیت کی تلاوت فرمائی: الحمد للہ آج سے جماعت احمد یہ جرمنی کا جلسہ سالانہ شروع ہو رہا ہے اور ہمیں اللہ تعالیٰ ایک اور جلسہ سالانہ میں شمولیت کی توفیق عطا فرمارہا ہے۔جلسہ سالانہ کیا ہے؟ ہم سالوں سے سنتے آرہے ہیں بلکہ جب سے کہ جلسہ سالانہ کے انعقاد کا آغاز ہوا ہے سوا سو سال سے زیادہ عرصہ پہلے سے یہی سنتے آرہے ہیں کہ جلسہ سالانہ کا مقصد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرماتے ہوئے یہ فرمایا ہے کہ یہ جلسہ کوئی دنیاوی میلہ نہیں ہے اور نہ ہی یہاں جمع ہونا کسی دنیاوی مقصد اور تعداد دکھانے کے لئے ہے یا دنیا پر کوئی دنیاوی اثر ڈالنے کے لئے ہے۔(ماخوذ از شہادت القرآن، روحانی خزائن جلد 6 صفحه 395) بلکہ یہاں آنے والوں کو ، یہاں جمع ہونے والوں کو خالصہ اللہ جمع ہو نا چاہئے تاکہ جہاں اپنی علمی اور روحانی پیاس بجھانے والے ہوں، اپنے علم اور روحانیت میں اضافہ کرنے والے ہوں ، وہاں اللہ تعالیٰ کے بندوں کے حقوق کے بارے میں علم حاصل کرنے والے اور ان حقوق کو ادا کرنے کی کوشش کرنے والے ہوں۔لیکن مجھے یہ کہتے ہوئے افسوس ہے کہ یہاں بعض لوگ جلسہ میں شامل ہونے کے لئے آتے تو ہیں لیکن حاصل کچھ نہیں کرتے سوائے اس کے کہ کچھ دوستوں کو مل لیا اور کچھ شغل کی باتیں ہو گئیں۔ایسے لوگ پھر مسائل بھی کھڑے کرتے ہیں۔بعض نوجوانوں اور بچوں کے لئے ٹھو کر کا باعث بھی بنتے ہیں۔بعض بڑی کر یہ قسم کی حرکتیں بھی کر لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہمیں کوئی نہیں دیکھ رہا۔ہمیشہ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ ہمیشہ اور ہر وقت دیکھ رہا ہے۔پس سب سے پہلی بات جو میں آج کہنا چاہتا ہوں یہ ہے کہ ہر ایک کو ذہن میں یہ بات اچھی طرح راسخ کر لینی چاہئے کہ یہ جلسہ خالصۂ روحانی جلسہ ہے۔اس کا انعقاد اس لئے کیا جاتا ہے تا کہ ہم تقویٰ میں بڑھیں اور خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کریں اور اس میں ترقی کریں۔بعض غیر مہمانوں کے سامنے تو پردہ پوشی ہو جاتی ہے۔ان کے سامنے کچھ احتیاط بھی ہو جاتی ہے اور کچھ اللہ تعالیٰ بھی پردہ پوشی فرماتا ہے کہ چند ایک کے غلط رویوں اور حرکات سے جماعت کی بدنامی نہ ہو۔تو بہر حال جیسا کہ میں نے کہا آج پہلی بات جس کی طرف میں توجہ دلانی چاہتا ہوں کہ