خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 421 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 421

خطبات مسرور جلد 16 421 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 31 اگست 2018 کرتے رہے۔اس کی وجہ سے باہر بھی ایک راہ گیر جاں بحق ہو گیا۔جب یہ لوگ مال لوٹ کر واپس جارہے تھے اس وقت انہوں نے ظفر اللہ صاحب پر فائرنگ کر دی۔تین گولیاں چلائیں جس کی وجہ سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ظفر اللہ صاحب کی دکان پر ان کے علاوہ اور بھی لوگ موجود تھے لیکن انہوں نے صرف ظفر اللہ صاحب کو ہی ٹارگٹ کیا کہ یہ ایک احمدی ہے اس لئے ٹارگٹ کر لو، کوئی فرق نہیں پڑتا، دوہرا ثواب ملے گا۔مرحوم نہایت خوش اخلاق، ملنسار اور مہمان نواز تھے۔یہی وجہ تھی کہ ان کی وفات پر کثیر تعداد میں لوگ تعزیت کے لئے آئے اور بڑی تعداد غیر از جماعت کی بھی تھی۔موصوف خلافت سے والہانہ محبت کرنے والے تھے۔ہر تحریک پر لبیک کہنے والے۔نماز باجماعت کے پابند۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔مرحوم بہادر اور نڈر انسان تھے۔اس وقت سیکرٹری تعلیم سید والہ کے طور پر خدمت بجالا رہے تھے۔ظفر اللہ صاحب کی عمر تیس سال تھی۔اڑھائی سال قبل مرحوم کی شادی ہوئی تھی۔ان کا ایک بیٹا عزیزم محمد طلحہ ڈیڑھ سال کا ہے۔مرحوم نے لواحقین میں اہلیہ، بیٹا اور والدین کے علاوہ ایک بھائی اور پانچ بہنیں سوگوار چھوڑے ہیں۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند کرے اور ان سب لواحقین کو صبر اور حوصلہ عطا فرمائے اور ان کی نیکیوں کو جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 30 نومبر 2018 ء تا06 دسمبر 2018ء جلد 25 شمارہ 48 صفحہ 05 تا09)