خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 35 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 35

خطبات مسرور جلد 16 35 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 جنوری 2018 تحفہ خرید کر دیں۔دوسروں کی محنت کو بڑا سراہتے۔ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں ایک دن مجھے انہوں نے لکھا کہ بعض احساس اور جذبات اس نوعیت کے ہوتے ہیں کہ ان کا منہ در منہ اظہار کرنا ( آمنے سامنے اظہار کرنا ) نا ممکن سا ہوتا ہے۔لکھتے ہیں کچھ یہی کیفیت میری بھی تم لوگوں سے یعنی ہسپتال سے رخصت ہوتے وقت تھی۔اللہ تعالیٰ تمہیں اس کی بہترین جزا عطا فرمائے۔پھر کہتے ہیں خلافت سے ان کو بڑا والہانہ پیار اور محبت تھی۔طاہر ہارٹ کے ساتھ ایک خاص تعلق تھا۔ڈاکٹر نوری صاحب لکھتے ہیں ایک مرتبہ مجھے کہا کہ نوری! طاہر ہارٹ تو خلیفہ وقت کا ایک بچہ ہے۔اللہ تعالیٰ خلیفہ وقت کی اس خواہش کو پورا کرے اور یہ ادارہ حقیقی معنوں میں دار الشفاء کا نمونہ بنے اور پھر انہوں نے نوری صاحب کو کہا کہ میں تو روزانہ دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ خلیفہ وقت کی تمام خواہشات اس کے حق میں پوری کرے۔کہتے ہیں بیماری کے دنوں میں جب میں رپورٹ لکھ کے دیتا تھا۔نوری صاحب ان کی رپورٹ روزانہ مجھے بھجواتے تھے۔تو کہتے ہیں ایک دن میرا ہاتھ پکڑ کر بڑے جذباتی ہو کر کہنے لگے کہ کیا ہمارے پاس حضور کی خدمت میں پیش کرنے کے لئے بیماری اور تکلیف کے علاوہ کوئی اچھی خبر نہیں ہے۔اسی طرح کے اور بھی بہت سارے لوگوں کے خطوط ہیں۔آپ کے اوصاف بیان کئے ہیں اور عاجزی اور ہمدردی کے بارے میں تو ہر ایک نے لکھا ہے۔خلافت سے جو تعلق اور محبت تھی اس کا اظہار آپ نے ایک دفعہ میری اہلیہ کے سامنے اس طرح کیا کہ جب میری اہلیہ نے انہیں کہا کہ خلیفہ وقت کے لئے تو آپ دعائیں کرتے ہوں گے میرے لئے اور بچوں کے لئے بھی دعا کریں۔تو کہنے لگے کہ خلیفہ وقت کے لئے مخصوص سجدوں میں میں ان کے بیوی بچوں کے لئے بھی دعا کرتا ہوں۔اور اس وقت جب یہ کہ رہے تھے تو ان کی بڑی جذباتی کیفیت تھی۔امیر اور بالا افسر کی اطاعت کا معیار بھی ان کا بہت بلند تھا۔حضرت خلیفتہ المسیح الرابع کی بیماری کے دنوں میں ، سن 2000ء کی بات ہے ، میں اور مکرم مرزا خورشید احمد صاحب یہاں لندن آئے ہوئے تھے۔میں ان دنوں میں ناظر اعلیٰ تھا۔کسی بات پر میرا اور ان کا تھوڑا سا اختلاف ہوا جس پر انہوں نے ذرا سختی سے میری بات کو رڈ کیا۔خیر بات آئی گئی ہو گئی۔میں ان سے چند دن پہلے لندن سے واپس ربوہ چلا گیا اور یہ چند دن بعد آئے اور میرے دفتر میں آئے اور آکر بڑے سنجیدہ بیٹھے تھے۔پھر کہنے لگے کہ میں معذرت کرنے آیا ہوں۔میرے سے بہت بڑی غلطی ہو گئی ہے۔میں نے کہا کون سی غلطی مجھے تو یاد نہیں۔کہنے لگے کہ لندن میں میں نے جو اختلاف کیا تھا اس میں میری آواز میں تھوڑا سا غصہ شامل ہو گیا تھا اور یہ جو بات ہے امیر کے احترام کے خلاف ہے اس لئے میں معافی چاہتا ہوں اور معذرت چاہتا ہوں۔باوجو د میرے کہنے کہ کوئی بات نہیں ہے۔معذرت ہی کرتے رہے۔تو یہ ان کی عاجزی تھی اور امیر کا احترام تھا۔پھر کے پہلو جو ہیں ان کو بھی اپنے گھر سے شروع کرتے تھے۔یہ نہیں کہ دوسروں کی اصلاح کی اور اپنے بچوں کو نہیں دیکھنا۔چند سال ہوئے میں نے خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے افراد کو ایک خط لکھا جس میں انہیں ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلایا۔بعض شکایات جو مجھ تک پہنچی تھیں ان کے بارے میں ان کو دور کرنے کی