خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 34
خطبات مسرور جلد 16 34 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 جنوری 2018 تھی۔ایک تو غلطی ، اوپر سے Under Age ڈرائیونگ۔پھر گر ابھی تو ان کے سامنے۔کوئی بھی اور شخص ہو تا تو شاید بہت ڈانٹتا کیونکہ باغیچہ کا نقصان بھی ہوا تھا۔لیکن آپ کی طبیعت میں اس قدر شفقت اور نرمی تھی کہ آپ نے لپک کر مجھے اٹھنے میں مدد دی۔پھر پوچھا کہ بیٹا کہیں زیادہ چوٹ وغیرہ تو نہیں آئی۔پھر مجھے شفقت سے سمجھایا کہ اپنی زندگی کی قدر کرو۔اسی طرح مربیان اور واقعین زندگی کے ساتھ بہت پیار اور محبت کا سلوک تھا۔علم وسیع ہونے کے باوجود بڑی عاجزی اور نرمی تھی۔اپنی کم علمی کا اظہار فرماتے تھے۔جامعہ احمدیہ کے درجہ شاہد کی جب پہلی convocation ہوئی تو اس موقع پر میں نے ان کو نمائندہ مقرر کیا تو کہتے ہیں کہ اپنے خطاب میں انہوں نے convocation میں جامعہ کے لڑکوں کو کہا کہ میں تو ساری عمر مربی صاحبان اور علماء صاحبان کے ارشادات سننے کا عادی ہوں۔ان کے سامنے میں کس طرح زبان کھول سکتا ہوں۔لیکن پھر نصیحت فرمائی اور بہت ساری باتوں کے علاوہ ان کو کہا کہ خاکسار اتنا ہی عرض کرے گا کہ نہایت ضروری اور اشد ضروری اور سب سے ضروری امر ہے کہ جو ارشادات خلیفۃ المسیح فرماتے ہیں ان کو سنا جائے ، ان پر غور کیا جائے۔ان پر جہاں تک ہمارے لئے ، جماعت کے عہدیداروں کے لئے اور آپ لوگوں کے لئے جو آپ مربی بن کر جا رہے ہیں ممکن ہے اور عمل کر سکتے ہیں تو عمل کریں۔ہم سب لوگ ان ہدایت کو حرز جاں بنائیں۔ان پر عمل کرنے کی پوری طرح کوشش کریں اور یہ دعا بھی کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔پھر بد وہلی کے مربی سلسلہ مسعود صاحب ہیں وہ کہتے ہیں کہ میاں صاحب سے کئی ملاقاتیں ہوئیں۔ہر ملاقات محبت اور شفقت کے جذبات کا سمندر رکھتی ہے۔آپ ہر دلعزیز محبت کرنے والے نہایت شفیق مرقع اخلاق تھے۔عاجزی کے مجسم پیکر تھے۔دفتر میں ملاقات میں آنے والے ہر شخص سے کرسی سے اٹھ کر سلام کرتے اور مصافحہ کا شرف بخشتے خواہ وہ چھوٹا بچہ ہی کیوں نہ ہو۔جو بھی ملاقات کے لئے آتا آپ اپنے ضروری کام چھوڑ کر بھی بڑی توجہ اور دلچسپی سے ہمہ تن گوش ہو کر ان کی بات سنتے اور ان میں گھل مل جاتے۔اس لئے ہر ایک آپ کے پاس فریاد لے کر آتا۔یہ ہر ایک نے اسی طرح لکھا ہے۔آپ کے دفتر میں غریب امیر ، عہدیدار یا عام احمدی ہر ایک کے ساتھ برابر کا سلوک ہو تا تھا۔ہر ایک کی بات پر ایسے فوری رد عمل دکھاتے کہ جیسے یہ شخص بہت اہم ہے۔ڈاکٹر نوری صاحب لکھتے ہیں کہ آپ لوگوں کے احساسات اور ضروریات اور جذبات کا دوسروں سے بڑھ کر خیال رکھتے۔ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ ایک مریض کو اینجیو پلاسٹی کے لئے آدھی قیمت کی رعایت کی گئی۔بعد میں جب اس نے آپ سے ، ناظر اعلیٰ سے ، رابطہ کیا تو ساری قیمت ہی معاف کر دی اور ڈاکٹر نوری صاحب کہتے ہیں کہ مجھے کہا کرتے تھے کہ خلیفہ وقت نے مجھے ہدایت دی ہے کہ کوشش کریں کہ تمام مستحق مریضوں کی مدد کیا کریں۔اس لئے اس کو نبھانا ہمارا فرض ہے۔اور پھر کہتے ہیں جب ہسپتال میں زیر علاج تھے تو نرسوں کے لئے اور جو انڈر ٹریننگ نرسیں ہیں۔نرسیں وغیرہ جو ٹرینگ لے رہی ہیں یا مرد لے رہے ہیں۔ان کیلئے انہوں نے مجھے کہا کہ میرے بیٹے سے اس کے پیسے لے لیں اور ان سب کو میری طرف سے سویٹر