خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 420
خطبات مسرور جلد 16 420 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 31 اگست 2018 ان کو پرورش پانے کا موقع ملا۔تقسیم ہند کے بعد بیرونی طلباء کو اپنے اپنے ملک میں واپس جانے کا ارشاد ہوا تو وہ بنگال واپس آگئے۔لیکن مرکز واپسی کے لئے بیقرار رہتے تھے۔پُر خطر حالات میں وہ کلکتہ سے دہلی کے لئے روانہ ہوئے۔دوران سفر ہندو اور سکھ حیران تھے کہ ایک مسلمان نوجوان اس قسم کے حالات میں ٹرین میں کس طرح اکیلے بے خطر سفر کر رہا ہے۔بہر حال دہلی پہنچنے کے بعد وہاں کی جماعت نے ان کو ایک فلائٹ میں لاہور بھیجنے کا انتظام کر دیا۔اس وقت مغربی اور مشرقی پاکستان ایک ہوتے تھے اور وہ بخیریت ربوہ پہنچ گئے۔جامعہ کی چھ سال کی تعلیم انہوں نے وہاں حاصل کی اور اس کے بعد انہوں نے جامعہ المبشرین کا مزید تین سال کا کورس مکمل کیا۔شاہد کی ڈگری حاصل کی اور پھر اس کے بعد پنجاب یونیورسٹی اور پشاور یونیورسٹی سے مولوی فاضل کی ڈگری بھی حاصل کی۔اس کے بعد پاکستان میں ہی فیصل آباد کی جماعت سمندری میں ان کی تقرری ہوئی۔63ء۔64ء میں ان کا تبادلہ مشرقی بنگال میں ہو گیا جہاں مختلف جماعتوں میں انہوں نے کام کیا۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے بنگلہ ترجمہ کے لئے ایک بورڈ تشکیل دیا تو محترم قاضی محمد نذیر صاحب کی سفارش پر مولانا عبد العزیز کا نام بھی اس میں شامل کیا۔اس میں مظفر الدین بنگالی صاحب اور مولوی محمد امیر بنگالی صاحب بھی ان کے ساتھ کام کرتے تھے اور اس کام کے لئے، ترجمہ کے لئے ربوہ میں مقیم رہے اور اس کے بعد محمد امیر صاحب کی ڈھاکہ منتقلی اور چوہدری مظفر الدین کے انتقال کے بعد اس کام کے لئے 1979ء میں انہیں ڈھاکہ بھیج دیا گیا۔مولوی محمد صاحب کی رحلت کے بعد آپ اکیلے یہ کام کرتے رہے اور بالآخر صد سالہ جوبلی کے سال بنگلہ ترجمہ قرآن کی چھپوائی مکمل ہوئی۔ملک کے طول و عرض میں مختلف جگہوں پر مربی اور مبلغ کے طور پر انہوں نے کام کیا۔تعلیم و تربیت کے کام اور تبلیغی کام کئے۔متعدد مرتبہ مخالفین کی طرف سے جسمانی زدو کوب کا بھی شکار ہوئے۔اسیر راہ مولیٰ ہونے کا اعزاز بھی انہیں حاصل رہا۔1992ء میں جب بخشی بازار ڈھا کہ جو جماعتی مرکز ہے اس پر دشمن نے حملہ کیا تو اس دوران بڑی جرآت کے ساتھ اکیلے لڑتے رہے اور اس کے نتیجہ میں ان کے سر سمیت تمام جسم پر بہت سے زخم آئے۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ تین بیٹیاں اور دو بیٹے اور متعدد پوتے اور پوتیاں نواسے نواسیاں ہیں۔ان کی تین بیٹیاں بنگلہ دیش میں مقیم ہیں۔بیٹوں میں سے ایک امریکہ میں ہیں اور چھوٹے بیٹے حبیب اللہ صادق صاحب یو کے میں مقیم ہیں اور ایم ٹی اے کے شعبہ نیوز میں کام کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ان کے بچوں کو بھی ان کی نیکیوں کو جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔دوسرا جنازہ محمد ظفر اللہ صاحب شہید ابن مکرم بشارت احمد صاحب سید والا ننکانہ کا ہے۔29 /اگست کو ضلع ننکانہ میں مغرب کے وقت ان کی دکان پر ڈاکوؤں نے حملہ کیا اور ان کی فائرنگ سے یہ شہید ہو گئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رجِعُوْنَ۔تفصیلات کے مطابق چھ ڈاکو بڑی تعداد میں جدید اسلحے سے لیس ان کی دکان پر موٹر سائیکلوں پر آئے۔ان کی سونے کی جیولری کی دکان تھی اس میں داخل ہوئے۔دکان کو لوٹا اور لوٹ مار کرنے کے بعد باہر شدید فائرنگ