خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 419 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 419

خطبات مسرور جلد 16 419 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 31 اگست 2018 جمع ہو گئے اور مقصد یہ تھا کہ یہ لوگ جم کر لڑیں گے اور بہادری سے آگے بڑھیں گے اور دشمن پر حملہ کریں گے اس سے تمام مسلمانوں کے قدم جم جائیں گے اور حوصلے بڑھ جائیں گے۔حضرت عبد اللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ پھر حضرت ابو عقیل انصار کے پاس جانے کے لئے کھڑے ہو گئے۔زخمی حالت میں تھے ، بہت کمزوری تھی لیکن کھڑے ہو گئے۔میں نے کہا کہ اے ابو عقیل آپ کیا چاہتے ہیں آپ میں لڑنے کی طاقت تو ہے نہیں۔انہوں نے کہا کہ اس منادی نے میر انام لے کر آواز لگائی ہے۔میں نے کہا کہ وہ تو انصار کو بلا رہا ہے نہ کہ زخمیوں کو۔وہ تو ان لوگوں کو بلا رہا ہے جو لڑنے کے قابل ہوں۔حضرت ابو عقیل نے کہا کہ انہوں نے انصار کو بلایا ہے اور میں چاہے زخمی ہوں لیکن میں بھی انصار میں سے ہوں اس لئے میں ان کی پکار پر ضرور جاؤں گا چاہے مجھے گھٹنوں کے بل جانا پڑے۔حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ حضرت ابو عقیل نے اپنی کمر باندھی اور اپنے دائیں ہاتھ میں ننگی تلوار لی اور پھر یہ اعلان کرنے لگے کہ اے انصار جنگ حنین کی طرح دشمن پر دوبارہ حملہ کرو۔چنانچہ انصار جمع ہو گئے۔اللہ ان پر رحم فرمائے۔اور مسلمان بڑی بہادری کے ساتھ دشمن کی طرف بڑھے یہاں تک کہ دشمن کو میدان جنگ چھوڑ کر باغ میں گھس جانے پر مجبور کر دیا۔مسلمان اور دشمن ایک دوسرے میں گھس گئے اور ہمارے درمیان اور ان کے درمیان تلواریں چلنے لگیں۔حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو عقیل کو دیکھا ان کا زخمی ہاتھ کندھے سے کٹ کر زمین پر گرا ہوا تھا اور ان کے جسم پر چودہ زخم تھے جن میں سے ہر زخم جان لیوا تھا اور اللہ کا دشمن مسیلمہ قتل ہو گیا تھا وہ بھی ساتھ ہی پڑا تھا۔حضرت ابو عقیل زمین پر زخمی پڑے ہوئے تھے اور ان کے آخری سانس تھے۔میں نے جھک کر ان سے کہا اے ابو عقیل ! انہوں نے کہا لبیک حاضر ہوں اور لڑکھڑاتی ہوئی زبان سے پوچھا کہ فتح کس کو ہوئی ہے؟ میں نے کہا آپ کو خوشخبری ہو کہ مسلمانوں کو فتح ہوئی ہے اور میں نے بلند آواز سے کہا کہ اللہ کا دشمن مسیلمہ کذاب قتل ہو چکا ہے۔اس پر انہوں نے اللہ کی حمد بیان کرتے ہوئے آسمان کی طرف انگلی اٹھائی اور انتقال فرما گئے۔اللہ ان پر رحم فرمائے۔حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ مدینہ واپس آنے کے بعد میں نے حضرت عمر کو ان کی ساری کار گزاری سنائی تو حضرت عمر نے فرمایا اللہ ان پر رحم فرمائے وہ ہمیشہ شہادت مانگا کرتے تھے اور جہاں تک مجھے معلوم ہے وہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بہترین صحابہ میں سے تھے اور شروع میں اسلام لائے تھے۔یہ حضرت عمر کے الفاظ ہیں۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 249 مطبوعه دار احياء التراث العربی بیروت 1996ء)، (حیاۃ الصحابه از محمد یوسف کاندھلوی جلد اوّل صفحہ 801 تا 803 مطبوعہ مکتبتہ العلم لاہور ) اللہ تعالیٰ تمام صحابہ کے درجات بلند فرماتا چلا جائے۔نماز کے بعد میں دو جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا۔پہلا جنازہ محترم مولانا عبد العزیز صادق صاحب مربی سلسلہ بنگلہ دیش کا ہے۔26 / جولائی 2018ء کو ان کی وفات ہوئی تھی۔اِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُونَ۔چوتھی جماعت کی تعلیم کے دوران حصول تعلیم کے لئے یہ قادیان چلے گئے جہاں صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت میں