خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 418 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 418

خطبات مسرور جلد 16 418 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 31 اگست 2018 يَجِدُونَ إِلَّا جُهْدَهُمْ فَيَسْخَرُونَ مِنْهُمْ - سَخِرَ اللهُ مِنْهُمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِیم۔(التوبة:79) یہ منافق ہیں جو مومنوں میں سے خوشی سے بڑھ بڑھ کر صدقے دینے والوں پر طنز کرتے ہیں اور ان پر بھی جو سوائے اپنی محنت کی کمائی کے کوئی طاقت نہیں رکھتے۔سو باوجود اس قربانی کے منافق ان پر ہنسی کرتے ہیں اور اللہ ان میں سے اشد مخالفوں کو ہنسی کی سزا دے گا اور ان کو دردناک عذاب پہنچے گا۔(ماخوذ از صحیح البخاری کتاب التفسیر باب الذین بیلمزون المطوعين الخ جلد 10 صفحہ 371 حدیث 4668 شائع کردہ نظارت اشاعت ربوہ) اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے ان کے عجیب عجیب نظارے ہیں۔کس طرح یہ کوشش کرتے تھے اور ان لوگوں کے انہی نمونوں کو قبول کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے بعد میں آنے والوں کو بھی ان کے نقش قدم پر چلنے کی تلقین فرمائی۔اس واقعہ کی تفصیل علامہ ابن حجر عسقلانی یوں بیان فرماتے ہیں کہ انہیں صاحب الصاع بھی کہتے ہیں یعنی حضرت ابو عقیل کو صاحب الصاع بھی کہا جاتا ہے۔واقعہ کچھ یوں ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف اپنا آدھامال لے کر آئے۔انصار کے غریب مسلمانوں میں سے ایک شخص ابو عقیل آگے بڑھے اور کہنے لگے یارسول اللہ میں کھجور کے دو صاع کے عوض رات بھر کنوئیں سے ڈول کھینچتارہا اور ایک صاع میں نے اپنے گھر والوں کے لئے رکھ دیا ہے اور دوسر اصاع یہ ہے۔بعض روایتوں میں ایک صاع میں سے نصف صاع دینے کا ذکر ہے۔یعنی آدھا میں نے گھر رکھ لیا اور آدھا لے کر آیا ہوں۔تو منافقوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ابو عقیل کے صاع سے غنی ہیں۔تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَوَعِيْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقْتِ وَالَّذِيْنَ لَا يَجِدُونَ إِلَّا جُهْدَهُمْ - (التوبة: 79) (الاصابه في تمييز الصحابه جلد 7 صفحه 233 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2005ء) یعنی یہ منافق ہیں جو مومنوں میں سے خوشی سے بڑھ بڑھ کر صدقہ دینے والوں پر طنز کرتے ہیں اور ان پر بھی جو کہ سوائے اپنی محنت کی کمائی کے کوئی طاقت نہیں رکھتے۔آپ ہی وہ انصاری صحابی تھے جنہوں نے مسیلمہ کذاب پر آخری وار کیا تھا۔چنانچہ ابن سعد بیان کرتے ہیں کہ جنگ یمامہ کے دن مسلمانوں میں سب سے پہلے حضرت ابو عقیل انیفی زخمی ہوئے۔ان کو کندھوں اور دل کے درمیان تیر لگا تھا جو لگ کر ٹیڑھا ہو گیا تھا جس سے وہ شہید نہ ہوئے۔پھر وہ تیر نکالا گیا۔ان کی بائیں جانب اس تیر کے لگنے کی وجہ سے کمزوری ہو گئی تھی۔یہ شروع دن کی بات ہے۔پھر انہیں اٹھا کر ان کے خیمہ میں لایا گیا۔جب لڑائی گھمسان کی ہونے لگی اور مسلمانوں کو شکست ہوئی یہاں تک کہ مسلمان پیچھے ہٹتے ہٹتے اپنی قیام گاہوں سے بھی پیچھے چلے گئے۔اس وقت حضرت ابو عقیل زخمی تھے۔انہوں نے حضرت معن بن عدی کی آواز سنی وہ انصار کو بلند آواز سے لڑنے کے لئے ابھار رہے تھے کہ اللہ پر بھروسہ کرو۔اللہ پر بھروسہ کرو اور اپنے دشمن پر دوبارہ حملہ کر و۔اور حضرت معن لوگوں کے آگے آگے تیزی سے چل رہے تھے۔یہ اس وقت کی بات ہے جبکہ انصار کہہ رہے تھے کہ ہم انصار کو دوسروں سے الگ کر دو۔ہم انصار کو دوسروں سے الگ کر دو۔چنانچہ ایک ایک کر کے انصار ایک طرف