خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 417 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 417

خطبات مسرور جلد 16 417 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 31 اگست 2018 پیچھے نماز پڑھنے آیا کرتے تھے۔حضرت عبد اللہ بن ابو عبس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے اپنے قدم اللہ تعالیٰ کی راہ میں گرد آلود کئے اللہ تعالیٰ نے اس پر آگ حرام کر دی۔(مسند احمد بن حنبل جلد 5 صفحه 469 حدیث 16031 مطبوعه عالم الكتب بيروت 1998ء) یعنی اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والے، اللہ تعالیٰ کی رضا پر چلنے والے، اپنے آپ کو مشقت میں ڈالنے والے لوگ اس میں شامل ہیں۔اور اسی طرح دعوت الی اللہ کے لئے سفر کرنے والے بھی اور وہ لوگ بھی جو ایک لمبے فاصلے سے مسجد میں نماز باجماعت کے لئے آتے ہیں یہ سب لوگ ان لوگوں میں شامل ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان لوگوں پر آگ حرام کی گئی ہے۔پھر ایک صحابی حضرت ابو عقیل بن عبد اللہ انصاری تھے۔عبد اللہ بن ثعلبہ ان کے والد کا نام تھا۔ان کی وفات 12 ہجری میں جنگ یمامہ میں ہوئی۔ان کا نام عبد الرحمن اراشی بن عبد اللہ تھا۔ان کا پر انا نام عبد العُری تھا۔اسلام قبول کرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام عبد الرحمن رکھا۔آپ کا تعلق قبیلہ بلی کی ایک شاخ بنوائیف سے تھا اور آپ انصار کے خاندان بنو نجبا بن گلفہ کے حلیف تھے۔آپ کی کنیت ابو عقیل ہے اور آپ اسی سے مشہور ہیں۔غزوہ بدر، احد، خندق غرض تمام غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔جنگ یمامہ میں بارہ ہجری میں حضرت ابو بکر صدیق کی خلافت میں شہید ہوئے۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 248-249 مطبوعه دار احياء التراث العربي بيروت 1996ء) صلی ان کے قبولیت اسلام کا واقعہ یوں بیان ہوا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے تو ایک دن ایک نوجوان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔قبول ایمان کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کا شرف حاصل کیا اور بتوں سے سخت نفرت کا اظہار کیا۔اس موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تمہارا نام کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ عبد العربی۔حضور اکرم اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ آج سے تمہارا نام عبد الرحمن ہے۔انہوں نے ارشاد نبوی کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا اور سب لوگوں سے کہہ دیا کہ میں اب عبد العربی نہیں بلکہ عبد الرحمن ہوں۔آپ کے اجداد میں ایک اراشہ بن عامر تھا اس کی نسبت سے انہیں اراشی بھی کہا جاتا ہے۔اکرم شخص (ماخوذ از آسمان ہدایت کے ستر ستارے از طالب ہاشمی صفحہ 491-492 مطبوعہ البدر پبلی کیشنزار دو بازار لاہور ) آپ ان صحابہ کرام میں سے تھے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ کرنے کا حکم فرماتے تو ساری رات یہ کام کرتے اور جو کچھ ملتا وہ صدقہ کر دیتے۔چنانچہ بخاری میں آپ کے متعلق آتا ہے کہ حضرت ابو مسعود بیان کرتے ہیں کہ جب ہمیں صدقہ کا حکم ہوا تو ہم اس وقت مزدوری پر بوجھ اٹھایا کرتے تھے۔حضرت ابو عقیل آدھا صاع کھجور مزدوری کے پیسوں میں سے لے کر آئے۔ایک اور شخص ان سے زیادہ لایا تو اس پر منافق کہنے لگے کہ اللہ تو اس شخص کے صدقے سے بے نیاز ہے اور اس دوسرے شخص نے جو صدقہ کیا وہ محض دکھاوے کے لئے ہے۔تب یہ آیت نازل ہوئی۔الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَوَعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ فِي الصَّدَقْتِ وَالَّذِينَ لَا