خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 416 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 416

خطبات مسرور جلد 16 416 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 31 اگست 2018 ایک تو یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ یہ سوئی تمہارے ہاتھ میں ہو گی اور جس طرح نابینا اپنی سوئی استعمال کرتے ہیں ، چلتے ہوئے مدد دے گی۔لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس سے روشنی بھی نکلتی ہو اور بعض دفعہ رات کے وقت میں کم نظر آتا ہو تو اس سے روشنی نکلتی ہو کیونکہ بعض اور صحابہ کے بارے میں بھی یہ روایت ملتی ہے کہ بعض دفعہ اند ھیرے میں وہ سفر کر رہے ہوتے تھے تو ان کے عصا سے روشنی نکلتی تھی۔(مسند احمد بن حنبل جلد 4 صفحه 693 حدیث 13906 مسند انس بن مالك مطبوعه عالم الكتب بيروت 1998ء) بلکہ ایک روایت یہ بھی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تین صحابہ سفر کر رہے تھے اور رات اندھیری تھی تو ان کو بھی اسی طرح اللہ تعالیٰ نے یہ نظارہ دکھایا کہ روشنی ان کے آگے آگے چلتی رہی۔حضرت ابو عبس کے ایک بیٹے روایت بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو عبس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز ادا کیا کرتے تھے اور پھر اپنے قبیلہ بنو حارثہ کی طرف چلے جایا کرتے تھے۔ایک دفعہ ایک اندھیری رات میں جب بارش بھی ہو رہی تھی آپ اپنے گھر کی طرف جارہے تھے تو آپ کے عصا سے روشنی نکلنا شروع ہو گئی جس نے آپ کے لئے راستے میں روشنی کر دی۔(المستدرك على الصحيحين جلد 6 صفحه 2028 حديث 5495 مطبوعه مكتبه نزار المصطفى الباز) حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کی بیماری کے دوران ان کی عیادت کے لئے تشریف لائے تو یہ بیہوشی کی حالت میں تھے۔جب افاقہ ہوا تو حضرت عثمان نے کہا کہ آپ اپنے آپ کو کس حالت میں پاتے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی حالت اچھی دیکھتے ہیں سوائے ایک اونٹ کا گھٹنا باندھنے والی رسی کے جو ہم سے اور عمال سے غلطی سے کھو گئی تھی۔ابھی تک ہم اس سے خلاصی نہیں پاسکے۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 238 مطبوعه دار احياء التراث العربی بیروت 1996ء) یہ عمال میں سے تھے جیسا کہ میں نے بتایا کہ مال صدقہ وغیرہ چندہ وغیرہ جمع کرنے کے لئے ان کو بھیجا جاتا تھا۔ذمہ داری اور ایمانداری کا یہ معیار تھا کہ اونٹ باندھنے والی ایک رستی غلطی سے گم گئی اور اسی وجہ سے زندگی کے آخر تک بے چین رہے۔مرض الموت میں بھی خیال آیا تو یہی کہ یہ رسی جو ہے اگلے جہان میں کہیں ہمارے لئے ابتلانہ بن جائے۔تو یہ وہ لوگ تھے جو اللہ تعالیٰ کے خوف اور ایمانداری کے ایسے معیار رکھتے تھے۔حضرت انس سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ جلدی نماز عصر پڑھنے والا کوئی نہ تھا یعنی وقت کے لحاظ سے پہلے وقت میں نماز عصر پڑھ لیا کرتے تھے۔انصار میں سے دو آدمی ایسے تھے جن کا گھر مسجد نبوی سے سب سے زیادہ دور تھا۔ایک حضرت ابولبابہ بن عبد المندر تھے جن کا تعلق بنی عمرو بن عوف سے تھا اور دوسرے حضرت ابو عبس بن جبر تھے جن کا تعلق بنو حارثہ سے تھا۔ابولبابہ کا گھر قبا میں تھا اور حضرت ابو عبس کا گھر بنو حارثہ میں تھا۔اور کافی فاصلے پر دو اڑھائی میل دور تھا۔یہ دونوں اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے اور جب اپنی قوم میں واپس پہنچتے تو انہوں نے تب تک وہاں نماز عصر نہ پڑھی ہوتی تھی۔(مسند احمد بن حنبل جلد 4 صفحه 607 حدیث 13516 مطبوعه عالم الكتب بيروت 1998ء) تو یہ ان لوگوں کا تیز چلنے کا معیار بھی ہے اور یہ بھی کہ فاصلہ طے کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے