خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 415 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 415

خطبات مسرور جلد 16 415 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 31 اگست 2018 تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر غشی طاری ہو گئی جب آپ پر حملہ ہوا اور پتھر آکے لگا۔حضرت شماس نے اپنے آپ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ڈھال بنا لیا تھا یہاں تک کہ آپ شدید زخمی ہو گئے اور آپ کو اسی حالت میں مدینہ اٹھا کر لایا گیا۔آپ میں ابھی کچھ جان باقی تھی۔آپ کو حضرت عائشہ کے ہاں لے جایا گیا۔حضرت ام سلمہ نے کہا کہ کیا میرے چازاد بھائی کو میرے سوا کسی اور کے ہاں لے جایا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں حضرت اُم سلمہ کے پاس اٹھا کر لے جاؤ۔پس آپ کو وہیں لے جایا گیا اور آپ نے انہی کے گھر وفات پائی۔وہاں اُحد سے زخمی ہو کے آئے تھے۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے حضرت شماس کو مقام اُحد میں نے جا کر انہی کپڑوں میں دفن کیا گیا۔جب جنگ کے بعد آپ کو زخمی حالت میں اٹھا کر مدینہ لایا گیا تھا تو وہاں ایک دن اور ایک رات تک زندہ رہے تھے اور اس دوران کہا جاتا ہے کہ انہوں نے کچھ کھایا پیا نہیں ، انتہائی کمزوری کی حالت تھی بلکہ بیہوشی کی حالت تھی۔حضرت شماس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات 34 سال کی عمر میں ہوئی۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 131 مطبوعه دار احياء التراث العربی بیروت 1996ء) پھر ایک صحابی حضرت ابو عبس بن جبر ہیں۔ان کے والد کا نام جبر بن عمر و تھا۔ان کی وفات 34 ہجری میں ستر سال کی عمر میں ہوئی۔ان کا اصل نام عبد الرحمن تھا اور کنیت ابو عبس تھی۔آپ کا تعلق انصار کے قبیلہ بنو حارثہ سے تھا۔زمانہ جاہلیت میں ان کا نام عبد العزیٰ تھا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بدل کر عبد الرحمن کر دیا تھا۔غربی ان کے بت کا نام تھا اس لئے بدلا اور عبد الرحمن کر دیا۔آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ بدر سمیت تمام غزوات میں شریک رہے۔کعب بن اشرف یہودی کو جن اصحاب نے قتل کیا یہ بھی ان میں شامل تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو عبس اور حضرت خنیس کے درمیان مواخات قائم فرمائی۔چونتیس ہجری میں ستر برس کی عمر میں آپ کی وفات ہوئی۔مکہ میں آپ کی کثیر اولاد موجود تھی۔حضرت عثمان نے جنازہ پڑھایا اور جنت البقیع میں ان کی تدفین ہوئی۔(اسد الغابه جلد 5 صفحه -204 205 مطبوعه دار الفكر بيروت 2003ء) (الاصابه في تمييز الصحابه جلد 7 صفحه 222 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2005 ء ) ( الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 238 مطبوعه دار احياء التراث العربي بيروت 1996ء) حضرت ابو عبس بن جبر کے بارے میں مروی ہے کہ اسلام کی بعثت سے پہلے بھی آپ عربی لکھنا جانتے تھے حالانکہ اس وقت عرب میں لکھنے کا رواج بہت کم تھا۔حضرت ابو عبس اور حضرت ابوبردہ بن نیار نے جب اسلام قبول کیا اس وقت دونوں نے بنو حارثہ کے بتوں کو توڑ دیا تھا۔حضرت عمر اور حضرت عثمان اُنہیں لوگوں سے صدقہ وصول کرنے کے لئے بھیجا کرتے تھے یعنی کہ مال کا شعبہ بھی ان کے پاس تھا۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 238 مطبوعه دار احياء التراث العربي بيروت 1996ء) زمانہ نبوی میں حضرت ابو عبس کی آنکھ کی بینائی چلی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو ایک عصا دیتے ہوئے فرمایا کہ اس سے روشنی حاصل کرو۔چنانچہ وہ عصا آپ کے آگے روشنی کیا کرتا تھا۔الاصابه في تمييز الصحابه جلد 7 صفحه 222 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2005ء)