خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 414 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 414

خطبات مسرور جلد 16 414 خطبه جمعه فرموده مورخه 31 اگست 3 2018- اسباب و سامان اس کے علاوہ تھا۔(الطبقات الكبرى جلد 2 صفحه 313 سريه شجاع بن وهب الى بني عامر بالسى مطبوعه دار احیاء التراث العربي بیروت 1996ء(شرح الزرقانی جلد 3 صفحه 337 ذكر خمس سرايا قبل المؤته دار الكتب العلمية بيروت 1996ء) یعنی کہ وہ حملہ آور جو تھے پوری تیاری کر کے آئے تھے اور جنگ کے ساز و سامان سے لیس تھے۔پھر جن صحابی کا ذکر ہو گا ان کا نام ہے۔حضرت شماس بن عثمان۔ان کا پہلے بھی ایک خطبہ میں مختصر ذکر ہو چکا ہے۔عثمان بن شرید ان کے والد تھے۔غزوہ اُحد 3 ہجری میں ان کی وفات ہوئی۔ان کا نام عثمان اور شماس لقب تھا اور اس لقب سے آپ مشہور ہوئے۔بنو مخزوم میں سے تھے اور اسلام کے آغاز میں ہی مسلمان ہو گئے تھے۔(اسد الغابه جلد 2صفحه 394393 شماس بن عثمان مطبوعه دار الفكر بيروت 2003ء) ابن ہشام نے حضرت شماس بن عثمان کے نام تماس کی وجہ تسمیہ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ شماس رضی اللہ عنہ کا نام عثمان ہے اور شماس کہلانے کی وجہ یہ ہے کہ عیسائیوں کا ایک مذہبی لیڈر جس کو شماس کہتے ہیں زمانہ جاہلیت میں مکہ آیا۔وہ عیسائی لیڈر بہت خوبصورت تھا۔اس کی خوبصورتی کو دیکھ کر مکہ کے لوگ متعجب ہوئے۔عتبہ بن ربیعہ جو عثمان کے ماموں تھے انہوں نے کہا کہ میں اس شماس سے زیادہ ایک حسین لڑکا تم کو دکھاتا ہوں اور پھر اپنے بھانجے عثمان کو لا کر دکھایا۔اس وقت سے لوگ عثمان کو شماس کہنے لگے۔حضرت شماس کا نام شماس ہونے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ آپ کا نام شماس آپ کے چہرے کی سرخ و سفید رنگت کی وجہ سے تھا گویا کہ آپ سورج کی مانند ہیں۔پس اس وجہ سے شماس نام آپ کے اصل نام پر حاوی ہو گیا۔(سیرت ابن هشام صفحه 462 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2001ء) (المنتظم في تاريخ الملوك والامم جلد 3 صفحه 187 بحواله المكتبة الشامله) حضرت شماس بن عثمان اور آپ کی والدہ حضرت صفیہ بنت ربیعہ بن عبد شمس حبشہ کی طرف دوسری ہجرت میں شامل تھیں۔حضرت شماس کی والدہ شیبہ اور عقبہ (سرداران مکہ جو غزوہ بدر میں مارے گئے تھے) کی بہن تھیں۔حضرت شماس بن عثمان نے حبشہ سے واپسی پر مدینہ کی طرف ہجرت کی۔حضرت شماس بن عثمان نے مدینہ کی طرف ہجرت کے بعد حضرت مبشر بن عبد منذر کے ہاں قیام کیا۔سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ حضرت شماس بن عثمان غزوہ اُحد میں شہید ہونے تک حضرت مبشر بن عبد المنذر کے ہاں مقیم رہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت شماس بن عثمان اور حضرت حنظلہ بن ابی عامر کے درمیان مواخات قائم کروائی۔حضرت شماس کے بیٹے کا نام حضرت عبد اللہ تھا اور آپ کی اہلیہ ام حبیب بنت سعید تھیں۔ابتدائی ہجرت کرنے والی مسلمان خواتین میں سے تھیں۔(اسد الغابه جلد 2 صفحه 394 مطبوعه دار الفکر بيروت 2003ء (سیر الصحابہ جلد دوم صفحہ 324 شماس بن عثمان مطبوعہ دار الاشاعت کراچی ) (الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 130 مطبوعه دار احياء التراث العربي بيروت 1996ء) حضرت شماس بن عثمان غزوہ بدر اور اُحد میں شامل ہوئے۔آپ غزوہ اُحد میں بہت جانفشانی سے لڑے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے شماس بن عثمان کو ڈھال کی مانند پایا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دائیں یا بائیں جس طرف بھی نظر اٹھاتے شماس کو وہیں پاتے جو جنگ اُحد میں اپنی تلوار سے مدافعت کر رہے تھے یہاں