خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 413
خطبات مسرور جلد 16 413 خطبه جمعه فرموده مورخه 31 اگست 3 2018- کہا۔سیرۃ الحلبیہ میں یہ سارا واقعہ بیان ہے۔(السيرة الحلبيه جلد 3 صفحه 357-358 باب ذكر كتابه عله الله الى الحارث بن ابی شمر مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2002ء) (الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 70 مطبوعه دارالکتب العلمية بيروت 1990ء) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے تاریخ کی مختلف کتابوں سے لے کر جو باتیں بیان کی ہیں اس میں سے جو چند زائد باتیں ہیں وہ یہ ہیں کہ آپ لکھتے ہیں کہ پانچواں تبلیغی خط ریاست غسان کے فرمانر واحارث بن ابی شمر کے نام لکھا گیا۔غسان کی ریاست عرب کے ساتھ متصل جانب شمال واقع تھی اور اس کار میں قیصر کے ماتحت ہوا کرتا تھا۔جب حضرت شجاع بن وہب وہاں پہنچے تو حارث اس وقت قیصر کی فتح کے جشن کے لئے تیاری کر رہا تھا۔جو شاہ روم تھا اس کی فتح کا جشن تھا اس کے لئے وہاں کا رئیس تیاری کر رہا تھا۔حارث سے ملنے سے پہلے شجاع بن وہب اس کے دربان یعنی مہتم ملاقات سے ملے۔وہ ایک اچھا آدمی تھا۔اس نے شجاع کی زبانی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سن کر فی الجملہ ان کی تصدیق کی۔بہر حال چند دن کے انتظار کے بعد وہی واقعہ بیان ہوا کہ شجاع بن وہب کو رئیس غسان کے دربار میں رسائی ہو گئی۔انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خط پیش کیا۔حارث نے خط پڑھ کر غصہ سے پھینک دیا اور نہ صرف غصہ سے پھینک دیا بلکہ جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے فوجوں کو حملہ کے لئے تیاری کا حکم دیا اور اس دوران اس نے قیصر کو بھی یہ خط بھیجا اور یہ بتایا کہ میں فوج کشی کرنے لگا ہوں تو قیصر نے کہا کہ فوج کشی نہ کرو اور مجھے آکر دربار کی شرکت کے لئے ایلیاء یعنی بیت المقدس میں ملو۔قیصر نے اس رئیس کو بلایا۔بہر حال یہ تو معاملہ ان کا وہیں ختم ہو گیا۔حدیث اور تاریخ سے پتہ لگتا ہے کہ مدینہ میں ایک عرصہ تک اس بات کا خوف رہا کہ عسانی قبائل مسلمانوں کے خلاف کب حملہ کرتے ہیں۔(ماخوذ از سیرت خاتم النبیین از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے صفحہ 828-829) کافی عرصہ تک یہ خوف رہا۔اس جواب کی وجہ سے جو شمر نے آپ کے صحابی کو دیا تھا۔ماہ ربیع الاول سنہ 8 ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی کہ بنو ہوازن کی ایک شاخ بنو عامر مسلمانوں کے خلاف لڑائی کی تیاری کر رہے ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت شجاع کو 24 مجاہدین دے کر ان لوگوں کی سرکوبی پر مامور فرمایا جو مدینہ پر حملہ کرنے لگے تھے۔اس وقت بنو عامر کے لوگ مدینہ سے پانچ راتوں کی مسافت پر الٹتی جو مکہ اور بصرہ کے درمیان ایک مقام ہے اس پر خیمہ لگائے بیٹھے تھے۔آپ یعنی حضرت شجاع مجاہدین کے ساتھ رات کو سفر کرتے اور دن کو چھپے رہتے یہاں تک کہ اچانک صبح کے وقت بنو عامر کے سر پر جا پہنچے۔وہ لوگ مسلمانوں کو اچانک اپنے سر پر دیکھ کر بوکھلا گئے باوجود اس کے کہ وہ حملے کی تیاری کے لئے نکلے تھے اور پوری فوج بنا کے نکلے تھے اور سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔حضرت شجاع نے اپنے مجاہدین کو حکم دیا کہ ان کا تعاقب نہ کریں۔کوئی ضرورت نہیں تعاقب کرنے کی اور مال غنیمت جو ہے اس زمانے کے رواج کے مطابق جو بھی وہ چھوڑ گئے تھے اونٹ اور بکریاں وہ ہانک کر مدینہ لے آئے۔مال غنیمت کی کثرت کا اندازہ اس بات سے ہو سکتا ہے کہ ہر ایک مجاہد کو پندرہ پندرہ اونٹ ملے تھے اور دیگر