خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 412
412 خطبات مسرور جلد 16 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 31 اگست 2018 بتاتا رہا جس سے اس کے دل پر بہت اثر ہوا اور وہ رونے لگا۔یعنی وہ جو سیکیورٹی انچارج تھا اس علاقے کے بادشاہ یا گور نر یار کیں کہہ لیں۔پھر اس نے کہا کہ میں نے انجیل میں پڑھا تھا کہ اس نبی کی بالکل یہی تفصیلات اس میں موجود ہیں۔مگر میں سمجھتا تھا کہ وہ سر زمین شام میں ظاہر ہوں گے مگر اب معلوم ہوا کہ وہ سر زمین قرظ یعنی یمن کے علاقہ میں ظاہر ہو چکے ہیں۔بہر حال میں ان پر ایمان لاتا ہوں۔وہ جو سیکیورٹی انچارج تھا اس نے کہا میں ایمان لاتا ہوں اور ان کی تصدیق کرتا ہوں۔مجھے حارث بن ابی شمر سے ڈر لگتا ہے کہ وہ مجھے قتل کر دے گا۔ساتھ اس بات کا اظہار بھی کیا کہ علاقے کار میں جو ہے وہ مجھے قتل کر دے گا۔کہتے ہیں کہ اس کے بعد یہ پہریدار میری بہت عزت کرنے لگا اور بہتر سے بہتر انداز میں میری میزبانی کرتا۔وہ مجھے حارث کے متعلق بھی اطلاعات دیتارہتا اور اس کے متعلق مایوسی کا اظہار کرتا۔کہتا کہ حارث بن ابی شمر اصل میں بادشاہ قیصر سے ڈرتا ہے کیونکہ یہ اسی کی حکومت میں تھا۔آخر ایک دن حارث باہر نکلا اور دربار میں آکر بیٹھا۔اس کے سر پر تاج تھا۔پھر مجھے حاضری کی اجازت ملی۔میں نے اس کے سامنے پہنچ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خط اس کے حوالے کیا۔اس نے وہ خط پڑھا پھر اسے اٹھا کر پھینک دیا اور غضبناک ہو کر کہنے لگا۔کون ہے جو مجھ سے میری سلطنت چھین سکے۔میں خود اس کی طرف پیش قدمی کرتا ہوں چاہے وہ یمن میں ہی کیوں نہ ہو۔میں وہاں اس کے پاس سزا دینے کے لئے پہنچوں گا۔لوگ فوجی تیار کریں۔اس نے اپنی انتظامیہ کو حکم دیا کہ تیار ہو۔یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ الفاظ کہے کہ میں جنگ کے لئے نکلوں گا اور جو خط لکھا ہے وہ دھمکی دی ہے کہ اگر تم باز نہ آئے تو تمہاری حکومت جاتی رہے گی۔بہر حال کہتے ہیں اس کے بعد حارث بن ابی شمر رات تک وہیں بیٹھا رہا اور لوگ اس کے سامنے پیش ہوتے رہے۔پھر اس نے گھڑ سواروں کو تیاری کا حکم دیا اور مجھ سے کہا کہ اپنے آقا سے یہاں کا سب حال بتا دینا۔اس کے بعد اس نے قیصر شاہ روم کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خط کا سارا واقعہ لکھ کر بھجوایا۔اپنا اپیچی بھجوایا اور یہی باتیں ساری لکھ کر بھجوائیں کہ اس طرح یہ نمائندہ مجھے اسلام کی تبلیغ کرنے آیا ہے۔حارث بن ابی شمر کا یہ خط قیصر کے پاس اس وقت پہنچا جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خط حضرت دحیہ کلبی کے ہاتھ قیصر کو پہنچ گیا تھا۔قیصر نے حارث کا خط پڑھ کر اسے لکھا کہ اس نبی پر حملے اور پیش قدمی کا خیال چھوڑ دو اور ان سے مت المجھو۔بہر حال جب قیصر کا یہ جوابی خط حارث کے پاس پہنچا تو اس نے حضرت شجاع کو جو کہ اس وقت تک وہیں ٹھہرے ہوئے تھے بلوایا اور پوچھا کہ تم کب واپس جانے کا ارادہ رکھتے ہو ؟ حضرت شجاع نے کہا کل۔بادشاہ نے اسی وقت آپ کو سو مثقال سونا دلائے جانے کا حکم دیا اور وہ دربان آپ کے پاس آیا۔وہی جو پہلے سیکیورٹی انچارج تھا ان کے پاس آیا اور اس نے خود کچھ روپیہ اور لباس دیا۔پھر سیکیورٹی انچارج کہنے لگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں میر اسلام عرض کرنا اور بتانا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کا پیروکار بن چکا ہوں۔حضرت شجاع کہتے ہیں کہ اس کے بعد جب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شاہ حارث کے متعلق سب حال بتایا۔آپ نے تمام روداد سن کر فرمایا کہ تباہ ہو گیا یعنی اس کی سلطنت تباہ ہو گئی۔پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے محل کے دربان مرسی کا سلام پہنچایا اور اس نے جو کچھ کہا وہ سب کچھ بتلایا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس نے سچ