خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 411 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 411

خطبات مسرور جلد 16 411 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 31 اگست 2018 صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو مدینہ ہجرت کرنے کا اذن دیا تو آپ بھی اپنے بھائی عقبہ بن وہب کے ساتھ ارض مکہ کو خیر باد کہہ کر مدینہ چلے گئے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اوس بن خولی کو حضرت شجاع کا دینی بھائی بنایا تھا۔مواخات جو قائم کی تھی اس میں حضرت شجاع کا بھائی بنایا تھا۔حضرت شجاع بدر ، أحد ، خندق سمیت تمام غزوات میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل رہے اور چالیس برس سے کچھ زائد عمر پا کر جنگ یمامہ میں شہادت پائی۔(اسد الغابه جلد 2 صفحه 370 شجاع بن ابى وهب مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت)،(الطبقات الكبرى جلد 3صفحه 51 شجاع بن وهب مطبوعه دار احياء التراث العربی بیروت 1996ء) غزوہ حدیبیہ سے واپس آنے کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اکثر سلاطین عالم کو دعوت اسلام کے خطوط روانہ فرمائے تھے۔حضرت عبد الرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز منبر پر خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے۔حمد وثنا کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تم میں سے بعض کو شاہان عجم کی طرف بھیجنا چاہتا ہوں۔جو غیر عرب بادشاہ ہیں ان کی طرف بھیجنا چاہتا ہوں۔تم مجھے سے اختلاف نہ کرنا جیسا بنی اسرائیل نے عیسی سے کیا تھا۔تو مہاجرین نے عرض کیا یار سول صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ سے کبھی کچھ اختلاف نہ کریں گے آپ ہمیں بھجوائیے۔(سیرت ابن کثیر صفحه 421 باب ذكر بعثه الى كسرى ملك الفرس مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 2005ء) چنانچہ جن صحابہ کو اس دینی فریضہ کے انجام دینے کی سعادت ملی ان میں حضرت شجاع بن وہب بھی شامل تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت شجاع کو حارث بن ابی شمر غسانی کی طرف جو دمشق کے قریب مقام غوطہ کا رئیس تھا سفیر بنا کر بھیجا اور بعض کے نزدیک اس کا نام منذر بن حارث بن ابی شمر عنشانی تھا۔بہر حال آپ نے تبلیغ کا جو خط بھیجا اس کے ابتدائی فقرے یہ تھے کہ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ مِنْ مُحَمَّدٍ رَّسُوْلِ اللَّهِ (صلى الله عليه وسلم) إِلَى الْحَارِثِ ابْنِ أَبِي شِمْر سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى وَ أَمَنَ بِاللَّهِ وَصَدَّقَ فَإِنِّي أَدْعُوكَ إِلى أَنْ تُؤْمِنَ بِاللهِ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ يَبْقَى لَكَ مُلْكُكَ (شرح زرقانی جلد 5 صفحه 46 و اما مكاتبته عليه الصلاة والسلام الى الملوك وغيرهم مطبوعه دار الكتب العلميه بیروت 1996ء)، (اصابه في تمييز الصحابه جلد 3 صفحه 256 شجاع بن وهب مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت) محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے حارث بن ابی شمر کی طرف، سلامتی ہے اس پر جو ہدایت کی پیروی کرے۔اللہ پر ایمان لائے اور تصدیق کرے۔بیشک میں تم کو اس خدا پر ایمان لانے کی دعوت دیتا ہوں جو نے کی دعوت : ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔اسی صورت میں تمہاری سلطنت باقی رہے گی۔حضرت شجاع کہتے ہیں کہ میں خط لے کر روانہ ہو ا یہاں تک کہ حارث بن ابی شمر کے محل کے دروازے پر پہنچا وہاں دو تین دن گزر گئے مگر دربار میں رسائی نہیں ہو سکی۔آخر میں نے وہاں کا جو سیکیورٹی کا انچارج تھا اس سے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اینچی کی حیثیت سے اس کے پاس آیا ہوں۔تو اس نے کہا کہ یہ جو رئیس ہے وہ فلاں دن باہر آئیں گے اس سے پہلے تم ان سے کسی طرح نہیں مل سکتے۔شجاع کہتے ہیں کہ پھر وہی شخص مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے متعلق پوچھنے لگا۔میں اسے تفصیلات