خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 33 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 33

خطبات مسرور جلد 16 33 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 جنوری 2018 دیکھا ہے بعض عہدیدار بھی باجماعت نماز تو علیحدہ رہی بعض دفعہ نمازیں بھی چھوڑ دیتے ہیں۔اسی طرح گرمی ہو یا سردی مقررہ اوقات پر دفتر سے واپس جانا عمر بھر آپ کا معمول رہا۔با قاعدگی سے پابندی سے وقت پر آتے اور ہمارے لئے مثال تھے۔ان کے ایک کارکن نظارت علیا کے کلرک محمد انور صاحب ہیں۔انہوں نے لکھا ہے کہ آپ کی شفقتوں عنایتوں اور محبتوں کو بھلانا بہت مشکل ہے۔کہتے ہیں باوجو د بزرگی اور بیماری کے وقت پر دفتر تشریف لاتے اور دفتر کے کاموں میں مشغول ہو جاتے۔اپنے نفس پر خدمت دین کو ترجیح دیتے رہے۔اپنی وفات سے قبل آخری دن یکم جنوری کو تشریف لائے تو سانس کی تکلیف زیادہ تھی۔سانس لینے میں بہت دشواری نظر آرہی تھی لیکن بہت ہی ضبط سے اس تکلیف کو چھپانے کی کوشش کر رہے تھے۔کہتے ہیں انہوں نے مجھے کہا کہ آج میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے اس لئے جلدی گھر چلا جاؤں گا۔پورا وقت دفتر بیٹھ نہیں سکوں گا لیکن جلدی گھر جانے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ میں نے کام نہیں کرنا۔اس لئے اس کلرک کو کہا کہ جو بھی دستخط ہونے والی ڈاک ہے وہ جلدی لے آؤ۔تو یہ کارکن کہتے ہیں کہ حسب ہدایت میں نے جلدی ڈاک پیش کر دی۔کچھ وصیت کی فائلیں دستخط کروا کے عرض کیا کہ طبیعت ٹھیک نہیں ہے تو باقی بعد میں دستخط کروالیں گے۔لیکن آپ نے کہا کہ نہیں ساری فائلیں دستخط کر والو۔کچھ نہیں ہو تا۔اس کے بعد ضروری ہدایات دے کر اور بعض ناظران اور افسران کو مل کر گئے اور اس طرح آپ اپنے عمل سے ہمیں سمجھا گئے کہ خدمت دین کس طرح کی جاتی ہے اور وقف کی رُوح کیا ہے۔پھر ایک مربی سلسلہ ملک محمد افضال صاحب ہیں وہ کہتے ہیں کہ چہرہ جھکائے مسجد میں بیٹھنا۔رمضان المبارک کے بابرکت مہینہ میں باقاعدگی سے بعد نماز عصر مسجد مبارک میں درس قرآن کریم میں غرق ہونا۔اگر کوئی صاحب ان کے پاس اپنا مسئلہ پیش کرتا تو اس کے مسئلہ کو خوشی اور تسلی سے سننا اور اس کے مسئلہ کا حل بتانا یہ تمام مشاہدات ہیں جو ربوہ کا ہر باسی روز مشاہدہ کرتا تھا۔کہتے ہیں جامعہ کی پڑھائی کے دوران ایک دفعہ میں بہت ہی پریشانی کے عالم میں تھا اور معاملہ میری سمجھ سے باہر تھا۔دعا ہی آخری حل تھا۔کہتے ہیں میں مکرم مرزا خورشید احمد صاحب کی خدمت میں ان کے دفتر گیا۔باوجود بے انتہا مصروفیات کے انہوں نے مجھے اپنے کمرے میں بلا لیا اور جب میں نے سب معاملہ سامنے رکھا تو میرا مقصد تو صرف دعا کا تھا لیکن انہوں نے تمام پریشانی کو سنا اور پھر خود ہی سوالات بھی پوچھے۔اور کہتے ہیں دفتر آنے سے پہلے میرے تو ذہن میں بھی نہیں تھا کہ میں اتنازیادہ وقت لوں گا۔لیکن آپ نے کمال حد تک شفقت کا مظاہرہ کیا اور بہت سا وقت مجھے دیا۔اس کے بعد جب ان کے دفتر سے میں باہر نکلا ہوں تو دل پر گزرنے والے بوجھ کو بہت ہلکا محسوس کیا اور دل میں ایک نئی آس لے کر اس کمرے سے باہر نکلا۔تو دوسروں کی جو تسلی کروانا ہے یہ ہر عہدیدار کا فرض ہونا چاہئے۔یہ لکھتے ہیں کہ نرم خو اور محبتم شفیق فرشتہ انسان تھے۔کہتے ہیں ایک دوست نے مجھے بتایا کہ جب میں ٹین ایجر (Teenager) تھا تو پہلی بار موٹر بائیک (Motorbike) سیکھ رہا تھا۔میاں خورشید احمد صاحب امیر مقامی کے گھر کے باہر باڑ میں جا کر ٹکرایا۔اس وقت اتفاق سے آپ خود اس باڑ کے پودوں کو باہر سڑک پر پانی لگا رہے تھے تو میں گھبرایا ہوا تھا اور شر مند گی مجھے الگ